افغانستان میں طالبان کی جانب سے خاندانی قوانین سے متعلق نئے ضوابط متعارف کرائے جانے کے بعد کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نئی قانون سازی میں نابالغ لڑکیوں کی شادی سے متعلق ایسے قواعد شامل کیے گئے ہیں جنہیں ناقدین خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں انسانی حقوق کا بحران شدت اختیار کر گیا، عالمی رپورٹ
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے خاندانی ضابطے میں کم عمر کنواری لڑکیوں کی شادی سے متعلق قواعد و ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔ 31 صفحات پر مشتمل اس ریگولیشن میں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی، بچپن کی شادی، دودھ پلانے کے تعلقات، جبری علیحدگی، لاپتا شوہر، ارتداد اور حدود سے متعلق مختلف قانونی اور مذہبی نکات بیان کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آرٹیکل 5 میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی بچے کی شادی والد یا دادا کے علاوہ دیگر رشتہ دار طے کریں تو اسے بھی قانونی طور پر درست تصور کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ شریکِ حیات سماجی طور پر موزوں ہو اور مہر یا جہیز مناسب ہو۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں طالبان دور: سیکیورٹی، معیشت اور انسانی بحران کی سنگین صورتحال
افغان میڈیا ادارے ’آمو ٹی وی‘ کے مطابق ضابطے میں یہ بھی درج ہے کہ بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد عدالت سے شادی ختم کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کنواری لڑکی کی خاموشی کو رضامندی قرار دینا خواتین کے حقوق کے استیصال کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ سخت سماجی ماحول میں اکثر لڑکیاں کھل کر اپنی رائے دینے سے گریز کرتی ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے اس قانون سازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے افغانستان میں خواتین اور کم عمر بچیوں کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔














