برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنی رخصتی سے قبل ہاؤس آف لارڈز کے لیے 26 نئی شخصیات کی نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں لندن کے میئر سر صادق خان کی شمولیت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بادشاہ چارلس سوم نے ان نامزدگیوں کی منظوری دینے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لندن کے میئر صادق خان کا اعزاز، شاہ چارلس کی جانب سے نائٹ کا خطاب
سر صادق خان کو لیبر پارٹی کے کوٹے سے ہاؤس آف لارڈز کا رکن نامزد کیا گیا ہے، ان کے علاوہ معروف براڈکاسٹر جون سرپونگ، سابق ٹریڈ یونین رہنما کرسٹینا میک اینیا سمیت 16 لیبر شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
اگرچہ ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت کے بعد صادق خان کے لیے وفاقی حکومت میں وزیر بننے کا راستہ کھل جائے گا، تاہم بی بی سی کے مطابق وہ اینڈی برنہم کی متوقع حکومت میں کسی وزارت کے خواہش مند نہیں ہیں۔
BREAKING: London Mayor Sir Sadiq Khan has been appointed to the House of Lords as part of Sir Keir Starmer's resignation honours.
Latest: https://t.co/Aqg3OUpVdL
📺 Sky 501, Virgin 602, Freeview 233 and YouTube pic.twitter.com/fUJOgyCI29
— Sky News (@SkyNews) July 16, 2026
سر صادق خان 2016 سے لندن کے میئر ہیں اور اس وقت اپنی تیسری مدت پوری کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ 2028 میں چوتھی مرتبہ میئر کے انتخاب میں حصہ لیں گے یا نہیں۔
حکومتی ذرائع نے صادق خان کو ایک کامیاب میئر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لندن میں پرتشدد جرائم کی شرح کو ریکارڈ حد تک کم کیا، فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی، الزبتھ لائن جیسے بڑے منصوبے کی تکمیل میں کردار ادا کیا اور کونسل ہاؤسنگ کی تعمیر کو دوبارہ فروغ دیا۔
مزید پڑھیں: مکہ مکرمہ سے عید پیغام: لندن کے میئر صادق خان نے حج کی روحانی کیفیت بیان کردی
لندن کے میئر کے ترجمان نے کہا کہ سر صادق خان اس اعزاز پر فخر محسوس کرتے ہیں اور آئندہ بھی لندن کو مزید منصفانہ، محفوظ اور ماحول دوست شہر بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے۔
فہرست میں لبرل ڈیموکریٹس کے 5، کنزرویٹو پارٹی کے 3 جبکہ 2 غیر جانبدار شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں سابق کابینہ سیکریٹری سر کرس ورملڈ اور ریٹائرڈ سینیئر جج سر برائن لیوسن شامل ہیں۔
دوسری جانب ریفارم یو کے کو کوئی نشست نہ ملنے پر پارٹی رہنما نائجل فراج نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس آف لارڈز مزید غیر نمائندہ ادارہ بنتا جا رہا ہے۔

ادھر لیبر حکومت کے مجوزہ اصلاحاتی منصوبوں کے باوجود نئی تقرریوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اینڈی برنہم پہلے ہی ہاؤس آف لارڈز میں بنیادی اصلاحات اور غیر منتخب ایوان کی موجودہ شکل کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔
دوسری جانب انتخابی اصلاحات کی مہم چلانے والی تنظیموں نے بھی حکومت سے وعدے کے مطابق ایک زیادہ جمہوری اور عوامی نمائندگی پر مبنی ایوان قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔














