میئر لندن صادق خان برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے تاحیات رکن نامزد

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنی رخصتی سے قبل ہاؤس آف لارڈز کے لیے 26 نئی شخصیات کی نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں لندن کے میئر سر صادق خان کی شمولیت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بادشاہ چارلس سوم نے ان نامزدگیوں کی منظوری دینے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: لندن کے میئر صادق خان کا اعزاز، شاہ چارلس کی جانب سے نائٹ کا خطاب

سر صادق خان کو لیبر پارٹی کے کوٹے سے ہاؤس آف لارڈز کا رکن نامزد کیا گیا ہے، ان کے علاوہ معروف براڈکاسٹر جون سرپونگ، سابق ٹریڈ یونین رہنما کرسٹینا میک اینیا سمیت 16 لیبر شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

اگرچہ ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت کے بعد صادق خان کے لیے وفاقی حکومت میں وزیر بننے کا راستہ کھل جائے گا، تاہم بی بی سی کے مطابق وہ اینڈی برنہم کی متوقع حکومت میں کسی وزارت کے خواہش مند نہیں ہیں۔

سر صادق خان 2016 سے لندن کے میئر ہیں اور اس وقت اپنی تیسری مدت پوری کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ 2028 میں چوتھی مرتبہ میئر کے انتخاب میں حصہ لیں گے یا نہیں۔

حکومتی ذرائع نے صادق خان کو ایک کامیاب میئر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لندن میں پرتشدد جرائم کی شرح کو ریکارڈ حد تک کم کیا، فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی، الزبتھ لائن جیسے بڑے منصوبے کی تکمیل میں کردار ادا کیا اور کونسل ہاؤسنگ کی تعمیر کو دوبارہ فروغ دیا۔

مزید پڑھیں: مکہ مکرمہ سے عید پیغام: لندن کے میئر صادق خان نے حج کی روحانی کیفیت بیان کردی

لندن کے میئر کے ترجمان نے کہا کہ سر صادق خان اس اعزاز پر فخر محسوس کرتے ہیں اور آئندہ بھی لندن کو مزید منصفانہ، محفوظ اور ماحول دوست شہر بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں گے۔

فہرست میں لبرل ڈیموکریٹس کے 5، کنزرویٹو پارٹی کے 3 جبکہ 2 غیر جانبدار شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں سابق کابینہ سیکریٹری سر کرس ورملڈ اور ریٹائرڈ سینیئر جج سر برائن لیوسن شامل ہیں۔

دوسری جانب ریفارم یو کے کو کوئی نشست نہ ملنے پر پارٹی رہنما نائجل فراج نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس آف لارڈز مزید غیر نمائندہ ادارہ بنتا جا رہا ہے۔

ادھر لیبر حکومت کے مجوزہ اصلاحاتی منصوبوں کے باوجود نئی تقرریوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اینڈی برنہم پہلے ہی ہاؤس آف لارڈز میں بنیادی اصلاحات اور غیر منتخب ایوان کی موجودہ شکل کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

دوسری جانب انتخابی اصلاحات کی مہم چلانے والی تنظیموں نے بھی حکومت سے وعدے کے مطابق ایک زیادہ جمہوری اور عوامی نمائندگی پر مبنی ایوان قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ملٹی ٹاسکنگ‘: دیپیکا پڈوکون امید سے ہونے کے باوجود شوٹنگ میں مصروف، ڈیڑھ سالہ بیٹی کی بھی دیکھ بھال

پاکستان آؤں تو بریانی اور کڑاہی ملے گی؟ جنوبی کورین میوزک گروپ کے سوال نے مداحوں کے دل جیت لیے

کرکٹ کا سنہری باب بند، پاکستان کیخلاف 365 رنز بنانے والے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز انتقال کر گئے

وزیراعظم آزاد کشمیر کے قافلے میں شامل پولیس گاڑی حادثے کا شکار، ایک اہلکار جاں بحق، متعدد زخمی

تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ویڈیو

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون