ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام، ایران نواز عراقی ملیشیا کا اعلان

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس کی ہلاکت میں اپنے کردار کا ذکر کیا تھا۔

ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ (آئی آر آئی) نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی شخص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرے یا اس کارروائی میں مالی یا عملی معاونت فراہم کرے گا، اسے ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا۔

ملیشیا نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم اس کے ارکان اور حامیوں کے عطیات سے جمع کی گئی ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے 2020 میں بغداد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا دوبارہ حوالہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا میڈیا پر حملہ، ’سازش‘ قرار دے کر لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ

اسلامک ریزسٹنس اِن عراق دراصل ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح گروہوں کا ایک اتحاد ہے، جس میں کتائب حزب اللہ، حرکۃ حزب اللہ النجباء، عصائب اہل الحق اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ امریکا ان گروہوں پر عراق، شام اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مراکز اور اتحادیوں پر متعدد راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ان ملیشیاؤں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے مالی، عسکری اور لاجسٹک معاونت حاصل ہے، جبکہ بعض گروہوں پر سرحدی گزرگاہوں، کاروباری سرگرمیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرکاری وسائل سے مالی فوائد حاصل کرنے کے بھی الزامات ہیں۔

ادھر امریکی حکام ماضی میں بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران سے منسلک عناصر نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ اور پابندیاں مزید سخت کی ہیں، جبکہ ایران سے وابستہ گروہوں نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں امریکی مفادات کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp