امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میں مزید شدت لانے اور اہداف کا دائرہ وسیع کرنے کے اشارے دیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں تہران کو جھکانے کے بجائے مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میں مزید شدت لانے کی دھمکی دیتے ہوئے جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم دفاعی اور سفارتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کے امکانات کم ہیں۔
Trump threatens new Iran escalation and risks repeating old mistakeshttps://t.co/twgFHOkeG3
— Economic Times (@EconomicTimes) July 17, 2026
رائٹرز کے مطابق ایک ماہ قبل ہونے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز پر ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے اور تہران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی نمایاں پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے توانائی کے منصوبوں، پلوں، جزیرہ خارگ کے آئل ٹرمینل اور زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سمیت مزید سخت فوجی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں ایران کو پسپا کرنے کے بجائے اس کے ردعمل کو مزید سخت بنا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کے ایران پر مسلسل ساتویں رات بھی حملے، جنگ کا دائرہ مزید وسیع، خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ
اٹلانٹک کونسل کے مشرق وسطیٰ امور کے ماہر جوناتھن پانیکوف کا کہنا ہے کہ نئی امریکی کارروائیوں سے ایران کے مؤقف میں نرمی آنے کے بجائے مزید سختی پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر کی پہلی ترجیح سفارتکاری ہے، تاہم ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اسی لیے امریکا فوجی دباؤ برقرار رکھے گا۔
Second Iranian strike in two days hit a Kuwaiti power/desalination plant, sparking a fire.
A similar plant was hit yesterday.
Strikes are part of Iran's ongoing campaign against US military sites in Kuwait (Ali Al Salem base and others).
Kuwait relies on desalination for ~90%… pic.twitter.com/EyTPOwTIsM
— Clash Report (@clashreport) July 18, 2026
رپورٹ کے مطابق ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا حملوں میں مزید اضافہ کرتا ہے تو وہ خطے میں امریکی اتحادیوں کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی تصادم کے بجائے سفارتی حل ہی خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا سکتا ہے۔













