ایران کے خلاف امریکی حملے مزید تیز، ٹرمپ کی نئی دھمکیوں سے کشیدگی میں اضافہ

ہفتہ 18 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میں مزید شدت لانے اور اہداف کا دائرہ وسیع کرنے کے اشارے دیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں تہران کو جھکانے کے بجائے مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میں مزید شدت لانے کی دھمکی دیتے ہوئے جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم دفاعی اور سفارتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کے امکانات کم ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایک ماہ قبل ہونے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز پر ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے اور تہران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی نمایاں پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے توانائی کے منصوبوں، پلوں، جزیرہ خارگ کے آئل ٹرمینل اور زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سمیت مزید سخت فوجی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں ایران کو پسپا کرنے کے بجائے اس کے ردعمل کو مزید سخت بنا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کے ایران پر مسلسل ساتویں رات بھی حملے، جنگ کا دائرہ مزید وسیع، خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ

اٹلانٹک کونسل کے مشرق وسطیٰ امور کے ماہر جوناتھن پانیکوف کا کہنا ہے کہ نئی امریکی کارروائیوں سے ایران کے مؤقف میں نرمی آنے کے بجائے مزید سختی پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر کی پہلی ترجیح سفارتکاری ہے، تاہم ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اسی لیے امریکا فوجی دباؤ برقرار رکھے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا حملوں میں مزید اضافہ کرتا ہے تو وہ خطے میں امریکی اتحادیوں کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی تصادم کے بجائے سفارتی حل ہی خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کے چھپے راز، فاتح ٹیم اصل ٹرافی اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جا سکتی؟

فیفا ورلڈ کپ فائنل: ارجنٹینا کی ٹیم میں 3 بڑی تبدیلیاں، اسپین سیمی فائنل الیون کے ساتھ مد مقابل

فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل، ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان مقابلہ جاری، ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسٹیڈیم میں موجود

ٹی20 کے بعد بھارت کو انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی شکست

’ریڈ فیوری‘ سے ’سیمفنی ان ریڈ‘ تک، اسپین عالمی فٹبال کا بے تاج بادشاہ کیسے بنا؟

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ