فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کا سب سے اہم اور جذباتی لمحہ فاتح کپتان کا ٹرافی اٹھانا ہوتا ہے۔
کروڑوں شائقین کی نظریں اس لمحے پر جمی ہوتی ہیں، لیکن اس چمکتی ہوئی سونے کی ٹرافی کے بارے میں بہت سے ایسے حقائق ہیں جو شائقین کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔
ٹرافی کی پیشکش، ایک منفرد روایت
اس سال ٹرافی کی تقریبِ تقسیم دیگر فائنلز سے مختلف ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو مشترکہ طور پر فاتح ٹیم کے کپتان کو ٹرافی پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں فاتح ٹیم کو ٹرافی دینے کے لیے تیار
یہ اقدام ماضی کی روایات سے ہٹ کر ہے، کیونکہ گزشتہ 2 فائنلز میں فیفا صدر نے تنہا یہ ذمہ داری نبھائی تھی۔ یاد رہے کہ آخری بار کسی سربراہِ مملکت نے 1982 میں اسپین کے بادشاہ خوان کارلوس کے ہاتھوں اطالوی ٹیم کو ٹرافی دی تھی۔
ٹرافی کی بناوٹ اور خصوصیات
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹرافی مکمل طور پر سونے سے بنی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ 18 قیراط سونے سے تیار کی گئی ہے۔ اس کی اونچائی 36.5 سینٹی میٹر ہے اور اس کا وزن 6.175 کلوگرام ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر یہ مکمل طور پر ٹھوس سونے کی ہوتی تو اس کا وزن 70 سے 80 کلوگرام تک ہوتا، جسے کپتان کے لیے ہوا میں بلند کرنا ناممکن ہوتا۔
اس ٹرافی کے نچلے حصے میں ‘میلاکائٹ’ نامی قیمتی پتھر لگایا گیا ہے جو سنہری رنگ کے ساتھ ایک خوبصورت تضاد پیدا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ فائنل: ارجنٹینا کی ٹیم میں 3 بڑی تبدیلیاں، اسپین سیمی فائنل الیون کے ساتھ مد مقابل
اسے اطالوی مجسمہ ساز سلویو گزا نیگا نے 52 ممالک کی تجاویز میں سے منتخب ہونے کے بعد ڈیزائن کیا تھا۔
فاتح ٹیم اصل ٹرافی کیوں نہیں رکھ سکتی؟
اکثر شائقین یہ نہیں جانتے کہ فاتح ٹیم کو دی جانے والی ٹرافی اصل نہیں ہوتی۔ ایوارڈ کی تقریب کے فوری بعد اصل ٹرافی کو واپس زیورخ میں واقع فیفا فٹبال میوزیم پہنچا دیا جاتا ہے، جہاں اسے سخت سیکیورٹی میں رکھا جاتا ہے۔
صرف سابقہ فاتح ٹیموں کے کھلاڑی اور سربراہانِ مملکت ہی اصل ٹرافی کو چھونے کے مجاز ہیں۔ فاتح ٹیم کو بطور یادگار سونے کی پرت چڑھی ہوئی کانسی کی ایک نقل مستقل طور پر دی جاتی ہے۔
ٹرافی کی مالیت کتنی ہے؟
اگر صرف اس میں استعمال ہونے والے سونے کی قیمت کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ 250,000 سے 400,000 ڈالرز کے درمیان بنتی ہے۔
تاہم فٹبال کی تاریخ اور اس کی انفرادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین اس کی کل مالیت 20 ملین ڈالرز کے قریب قرار دیتے ہیں۔













