وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگرد عام شہریوں، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں، تاہم پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش ناکام ہوگی۔
آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام سمر کیمپ میں طلبہ و طالبات سے خصوصی نشست کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہر شہید کسی کا بیٹا، شوہر یا والد تھا، اور بلوچستان کی حکومت و عوام دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری
سرفراز بگٹی نے کہاکہ دہشتگردی اور منظم پروپیگنڈا کو سیاسی مقاصد کے لیے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بہادری سے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام کا اتحاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور بہادری کے ساتھ ملک کا دفاع کیا۔
مسلح گروہوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شورش پسند گروہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے کے لیے بھرتی، لاجسٹک سپورٹ اور پروپیگنڈا کا سہارا لیتے ہیں، تاہم پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہے، لیکن ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے والے گروہوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
’ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہ را کے حمایت یافتہ پراکسی ہیں‘
سرفراز بگٹی نے کہاکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے اور دیگر عسکریت پسند گروہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حمایت یافتہ پراکسی ہیں، جنہیں مالی معاونت اور تربیت فراہم کی جاتی ہے اور وہ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان کو اپنے اس وعدے کی پاسداری کرنا ہوگی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
’افغان سرزمین سے حملے پاکستان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے‘
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ افغان سرزمین سے کیے جانے والے دہشت گرد حملے پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن ہر صورت قائم ہوگا، پاکستان کو تقسیم کرنے کی ہر پرتشدد کوشش ناکام ہوگی اور پاکستان اور بلوچستان ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے۔
’حملے کے بعد ریاست مخالف پروپیگنڈا بھی کیا گیا‘
سرفراز بگٹی نے کہاکہ ریاست پر حملہ کرنے اور بے گناہ شہریوں و پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈا مہم بھی چلائی گئی، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ حملہ پاکستان کے اپنے اداروں نے کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ دعوے پشتون نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ریاست کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے خود اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
منگی ڈیم پر حملہ، جوڈیشل کمیشن قائم
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 20 ارب روپے مالیت کا منگی ڈیم ایک نہایت اہم منصوبہ ہے، جس کے پمپنگ اسٹیشن کی حفاظت پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔
مزید پڑھیں: مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، تشدد یا دہشتگردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
انہوں نے بتایا کہ اس مقام پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جہاں 30 سے زائد پولیس اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلہ کیا۔ امدادی کارروائی کے لیے روانہ ہونے والی نفری کو بھی راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے اور اس واقعے سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔












