وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ موسیٰ خیل کا بلوچستانی زیادہ ترقی یافتہ ہے یا واشک کا، اور یہ کہ وہاں کے لوگ بندوق کیوں نہیں اٹھاتے۔
اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تشدد کو کسی بھی صورت میں سیاسی یا سماجی دلائل کے ذریعے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے کبھی سیاسی مکالمے سے انکار کیا ہے؟ ان کے مطابق سیاسی مکالمہ، انتخابی اصلاحات اور فنڈز کی تقسیم جیسے معاملات پر بات ہونی چاہیے، لیکن اسے دہشتگردی سے جوڑنا درست نہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہاکہ ریاست کے پاس طاقت کے استعمال کا حق ہوتا ہے اور دنیا کی کسی بھی ریاست میں کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہتھیار اٹھا کر معصوم لوگوں کا قتلِ عام کرے، چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کا حل تشدد نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترقی کے حوالے سے بھی مختلف علاقوں کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے، جیسے کراچی، لاہور، گجرانوالا، راجن پور اور دیگر علاقوں میں ترقی کی صورتحال ایک جیسی نہیں ہوتی، لیکن اس بنیاد پر کوئی یہ جواز پیش نہیں کر سکتا کہ لوگ بندوق اٹھا لیں۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان اسمبلی کے 51 اراکین میں سے 11 پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں جبکہ 40 اراکین پہلے سے سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن انہیں بنیاد بنا کر تشدد یا دہشتگردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔














