مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، تشدد یا دہشتگردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ موسیٰ خیل کا بلوچستانی زیادہ ترقی یافتہ ہے یا واشک کا، اور یہ کہ وہاں کے لوگ بندوق کیوں نہیں اٹھاتے۔

اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تشدد کو کسی بھی صورت میں سیاسی یا سماجی دلائل کے ذریعے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے کبھی سیاسی مکالمے سے انکار کیا ہے؟ ان کے مطابق سیاسی مکالمہ، انتخابی اصلاحات اور فنڈز کی تقسیم جیسے معاملات پر بات ہونی چاہیے، لیکن اسے دہشتگردی سے جوڑنا درست نہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہاکہ ریاست کے پاس طاقت کے استعمال کا حق ہوتا ہے اور دنیا کی کسی بھی ریاست میں کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہتھیار اٹھا کر معصوم لوگوں کا قتلِ عام کرے، چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کا حل تشدد نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقی کے حوالے سے بھی مختلف علاقوں کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے، جیسے کراچی، لاہور، گجرانوالا، راجن پور اور دیگر علاقوں میں ترقی کی صورتحال ایک جیسی نہیں ہوتی، لیکن اس بنیاد پر کوئی یہ جواز پیش نہیں کر سکتا کہ لوگ بندوق اٹھا لیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان اسمبلی کے 51 اراکین میں سے 11 پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں جبکہ 40 اراکین پہلے سے سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن انہیں بنیاد بنا کر تشدد یا دہشتگردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘