آن لائن فوڈ، موبائل فون، کپڑوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی خرید و فروخت کے بعد اب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی آن لائن خرید و فروخت بھی ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً اسلام آباد، لاہور، پشاور اور دیگر بڑے شہروں کے شہری سوشل میڈیا کے ذریعے گاڑیاں پسند کرتے ہیں اور چند دنوں کے اندر وہ گاڑیاں ان کے گھروں تک پہنچا دی جاتی ہیں۔ تاہم اس کاروبار کے ساتھ فراڈ، قانونی پیچیدگیوں اور گاڑیوں کی ضبطی کے خطرات بھی مسلسل موجود ہیں۔
پاکستان میں گاڑیوں پر عائد بھاری ٹیکسز کے باعث گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، متعدد گاڑیوں کی اصل قیمت سے زیادہ ان پر ٹیکس عائد ہوتے ہیں، ایسے میں وہ گاڑیاں جن کا کسٹم یا ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہوتا، وہ گاڑیاں انتہائی سستے داموں دستیاب ہوتی ہیں تاہم چونکہ ان کو خریدنا، چلانا یا فروخت کرنا غیر قانونی ہے تو ایسی گاڑیاں کسٹم یا ایکسائز حکام موقع پر پکڑ کر ضبط کر لیتے ہیں اور بعد ازاں ان کی نیلامی کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: نان کسٹم گاڑی ضبطگی کیس، سپریم کورٹ نے ممبر کسٹم سے تفصیلی جواب طلب کر لیا
اسلام آباد میں نان کسٹم گاڑیاں آرڈر کرنے والے شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں زیادہ تر افغانستان سے چمن کے راستے پاکستان پہنچتی ہیں۔ ان گاڑیوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں خصوصاً کوئٹہ اور چمن میں فروخت کیا جاتا ہے، جہاں سے بعد ازاں انہیں ملک کے دیگر شہروں تک پہنچانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اس وقت ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد ایسے صفحات اور اکاؤنٹس موجود ہیں جہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تصاویر، ویڈیوز اور قیمتیں شیئر کی جاتی ہیں۔ خریدار اپنی پسند کی گاڑی منتخب کرتا ہے، قیمت طے کرتا ہے اور پھر چند دنوں میں گاڑی اس کے گھر تک پہنچانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
شہری نے بتایا کہ کئی فروخت کنندگان ابتدائی طور پر 10 سے 20 فیصد ایڈوانس رقم طلب کرتے ہیں جبکہ باقی ادائیگی ڈیلیوری کے وقت وصول کی جاتی ہے۔ تاہم اسی طریقہ کار میں فراڈ کے متعدد واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ بعض افراد ایڈوانس رقم وصول کرنے کے بعد رابطہ ختم کر دیتے ہیں جبکہ کئی مواقع پر خریدار کو وہ گاڑی فراہم نہیں کی جاتی جو تصاویر میں دکھائی گئی ہوتی ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خریدار خود کوئٹہ یا چمن جاتا ہے، مختلف شورومز سے گاڑی پسند کرتا ہے، ادائیگی کرتا ہے اور پھر گاڑی کو مخصوص ڈرائیور کے حوالے کر دیتا ہے۔
یہ افراد طے شدہ معاوضے کے عوض گاڑی ملک کے کسی بھی شہر تک پہنچاتے ہیں۔ اس کام کا کرایہ گاڑی کی نوعیت، فاصلے اور خطرات کے مطابق قریباً 2 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے تک وصول کیا جاتا ہے۔
اس کاروبار سے وابستہ افراد کا دعویٰ ہے کہ اگر راستے میں گاڑی کسٹمز یا دیگر اداروں کی تحویل میں چلی جائے تو بعض صورتوں میں خریدار کو رقم واپس کر دی جاتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی قانونی ضمانت موجود نہیں ہوتی۔
شہری نے بتایا کہ ماضی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال نسبتاً زیادہ تھا، تاہم حالیہ برسوں میں کسٹمز اور ایکسائز حکام کی کارروائیوں میں اضافہ ہونے کے باعث ایسی گاڑیوں کی ضبطی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے بعد خریداروں میں بھی محتاط رویہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
3 سے 5 روز میں گاڑی خریدار تک پہنچا دی جاتی ہے، مالک حاجی نیاز موٹرز
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نان کسٹم گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ حاجی نیاز موٹرز کے مالک نے دعویٰ کیاکہ ان کے پاس موجود گاڑیاں خریدار کی پسند کے مطابق 3 سے 5 روز میں ملک کے مختلف شہروں تک پہنچا دی جاتی ہیں، ادائیگی بھی اسی وقت لی جاتی ہے جب خریدار کو وہی گاڑی مل جائے جو اس نے پسند کی ہو۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیاکہ پاکستان میں اگر کسی قانونی اور کسٹم پیڈ گاڑی کی قیمت قریباً 50 لاکھ روپے ہو تو اسی ماڈل کی نان کسٹم گاڑی کوئٹہ میں قریباً 15 سے 20 لاکھ روپے میں دستیاب ہوتی ہے اور اس کی حالت بھی قریباً نئی گاڑی جیسی ہوتی ہے۔
کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق زیادہ تر گاڑیاں پہلے افغانستان پہنچتی ہیں، جہاں انہیں خریدنے کے بعد دشوار گزار پہاڑی راستوں سے چمن کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں کوئٹہ کے مختلف شورومز میں فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے، جہاں سے یہ گاڑیاں ملک بھر کے خریداروں تک پہنچتی ہیں، جبکہ یہ گاڑیاں ایسے علاقوں میں بھی چلائی جا سکتی ہیں کہ جہاں نان کسٹم گاڑیاں چلانے کی اجازت ہو، جیسا کہ سوات، کوئٹہ، گلگت، اسکردو وغیرہ۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اور شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ ماضی میں کئی مرتبہ نان کسٹم گاڑیاں خرید چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ سوشل میڈیا پر گاڑی پسند کرتے، پھر خود کوئٹہ جا کر ادائیگی کرتے اور واپس آ جاتے تھے، جس کے 3 سے 4 دن بعد گاڑی ان کے گھر پہنچ جاتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کافی عرصہ ایسی گاڑی استعمال کی لیکن کبھی کسی ادارے نے ان کی گاڑی نہیں پکڑی، تاہم ہر وقت یہ خوف موجود رہتا تھا کہ اگر گاڑی ضبط ہو گئی تو لاکھوں روپے کا نقصان ہو جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ اب آن لائن فراڈ کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور بعض افراد رقم وصول کرنے کے باوجود گاڑی فراہم نہیں کرتے۔
نان کسٹم گاڑیوں کے پارٹس دوسری گاڑیوں میں نصب کرنے کا کاروبار بھی جاری
شہری کے مطابق اب نان کسٹم گاڑی کی جگہ ایک نیا کاروبار بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے، بعض لوگ پاکستان میں موجود پرانی، خراب یا حادثے کا شکار قانونی گاڑیاں خرید کر انہیں چمن لے جاتے ہیں، جہاں نان کسٹم گاڑیوں کے قریباً تمام پارٹس ان گاڑیوں میں نصب کر دیے جاتے ہیں۔
اس عمل کے بعد گاڑی ظاہری طور پر مکمل نئی محسوس ہوتی ہے جبکہ رجسٹریشن اور قانونی دستاویزات پہلے سے موجود ہونے کی وجہ سے ایسی گاڑیوں کو نان کسٹم گاڑی تصور نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں اس طرز کا کام تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
راولپنڈی کے ایک اور شہری نے بتایا کہ وہ قریباً 3 سال تک نان کسٹم گاڑی استعمال کرتے رہے اور اس دوران کبھی کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم ایک روز ان کی گاڑی مرمت کے لیے ایک ورکشاپ میں کھڑی تھی کہ کسٹمز حکام نے وہاں کارروائی کرتے ہوئے گاڑی اپنی تحویل میں لے لی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تاہم گاڑی ضبط کر لی گئی جس سے انہیں مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا: نان کسٹم گاڑیوں کی پروفائلنگ نہ کرنے پر حکومت کیا کارروائی کرے گی؟
اگرچہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم اس کاروبار کے ساتھ قانونی، مالی اور سیکیورٹی خطرات بھی بدستور موجود ہیں۔ متعلقہ اداروں کی کارروائیوں میں اضافے کے بعد اس کاروبار کے طریقہ کار میں تبدیلی ضرور آئی ہے، لیکن مختلف ذرائع کے مطابق یہ سلسلہ اب بھی مختلف علاقوں میں جاری ہے۔
ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی گاڑی کی خریداری سے قبل اس کی قانونی حیثیت، دستاویزات اور فروخت کنندہ کی ساکھ کی مکمل جانچ پڑتال انتہائی ضروری ہے۔













