خواجہ آصف کے بیان پر بلاول بھٹو کا ردعمل، کیا ن لیگ اپنے سینیئر رہنما کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے؟

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک متنازع بیان (راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور کے عوام کشمیری نہیں) نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف خواجہ آصف کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ وزیراعظم سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ واضح کریں آیا یہ بیان حکومت کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے یا وزیر دفاع کی ذاتی رائے ہے۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کا خواجہ آصف سے متعلق طرز گفتگو درست نہیں، سیاسی ماحول کشیدہ ہو سکتا ہے، رانا ثنااللہ

بلاول بھٹو نے کہاکہ اگر یہ حکومتی مؤقف نہیں تو وزیراعظم کو خواجہ آصف کو کابینہ سے فوری طور پر برطرف کرنا چاہیے۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلاول بھٹو کے اعتراضات کے بعد مسلم لیگ نواز خواجہ آصف کے خلاف کوئی ایکشن لے گی؟

خواجہ آصف کے خلاف کارروائی کا امکان نہیں، ماجد نظامی

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو صرف علمی، لسانی یا تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف علاقوں کی شناخت اور وہاں آباد آبادی سے متعلق بحث کی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں کشمیر ایک نہایت حساس، متنازع اور قومی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسے وقت میں کسی ذمہ دار حکومتی عہدیدار کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دینا سیاسی طور پر مناسب نہیں اور اس سے غیر ضروری تنازع جنم لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے خواجہ آصف کے بیان پر کی جانے والی تنقید بڑی حد تک درست دکھائی دیتی ہے، کیونکہ قومی مفاد سے جڑے معاملات پر سیاسی قیادت کو ذمہ داری، تحمل اور متوازن طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق ایسے بیانات سے نہ صرف عوامی سطح پر غلط تاثر پیدا ہوتا ہے بلکہ حساس قومی معاملات پر غیر ضروری سیاسی کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔

ماجد نظامی کے مطابق خواجہ آصف اس سے قبل بھی اپنے مختلف بیانات کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) میں ان کی سینیئر حیثیت، پارٹی قیادت خصوصا نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی قربت، اور پارٹی کے اندر کسی مضبوط مخالف دھڑے کی عدم موجودگی کے باعث یہ امکان کم نظر آتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بڑا سیاسی یا حکومتی ایکشن لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارٹی کے اندر بعض اختلافی آوازیں موجود تھیں، لیکن موجودہ صورتحال میں خواجہ آصف کی سیاسی پوزیشن خاصی مستحکم دکھائی دیتی ہے، اسی لیے بظاہر ان کے خلاف سخت کارروائی کے امکانات محدود ہیں۔

خواجہ آصف خود ایک سکہ بند کشمیری ہیں، مجیب الرحمان شامی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے اس معاملے پر مختصر ردِعمل دیتے ہوئے کہاکہ خواجہ آصف خود ایک سکہ بند کشمیری ہیں، اس لیے ان سے متعلق اس نوعیت کے معاملات کا فیصلہ اور ردِعمل اہلِ کشمیر پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام اپنے معاملات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور ان پر رائے دینے یا فیصلہ کرنے کا حق بھی بنیادی طور پر انہی کا ہے۔

مجیب الرحمان شامی نے مزید کہاکہ بلاول بھٹو زرداری کو اس معاملے پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ کشمیریوں کے باہمی معاملات کو انہی کے سپرد رہنے دینا چاہیے تاکہ وہ خود اس پر اپنی رائے اور مؤقف کا اظہار کر سکیں۔

سیاسی رہنماؤں کے درمیان سخت بیان بازی کوئی نئی بات نہیں، رانا عثمان

سیاسی تجزیہ کار رانا عثمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان سخت بیان بازی اور اس پر ردِعمل کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اور خواجہ آصف دونوں ہی ایسے سیاست دان ہیں جو اپنے دوٹوک اور جارحانہ سیاسی بیانات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، اس لیے اس معاملے نے بھی سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف کے بیان کو آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت مختلف کشمیری حلقوں نے منفی انداز میں لیا، جس کے باعث شدید ردِعمل سامنے آیا۔ چونکہ آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت موجود ہے، اس لیے اس تنازع نے وہاں کی حکومت کے لیے بھی سیاسی مشکلات پیدا کیں، جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وزیراعظم سے خواجہ آصف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

رانا عثمان کے مطابق ماضی کی سیاسی روایات کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کم ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی سینیئر قیادت، خصوصاً وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف کوئی بڑی تادیبی کارروائی کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نہ صرف ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں بلکہ ان کا تعلق بھی کشمیری پس منظر سے ہے، اس لیے وہ کشمیر اور کشمیری عوام کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے، خواجہ آصف

تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں اس نوعیت کا بیان غیر ضروری تنازع کا باعث بنا اور اس سے سیاسی و عوامی سطح پر بدمزگی پیدا ہوئی۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس بیان کے اثرات حکومتی سطح پر جاری مذاکرات پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ حساس معاملات میں اس قسم کے بیانات فریقین کے درمیان اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ البتہ ان کے خیال میں خواجہ آصف کو کابینہ سے ہٹانے یا ان کے خلاف پارٹی کارروائی کا امکان بہت کم ہے۔ تاہم اگر وفاقی کابینہ میں ردوبدل کیا جاتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ ان کی وزارت یا قلمدان تبدیل کر دیا جائے، لیکن ان کے خلاف سخت سیاسی یا تنظیمی ایکشن کے امکانات بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر