آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے، خواجہ آصف

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں اور اگر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے کوئی قابل عمل حل نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ایک مثبت پیشرفت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کشمیر کا تعلق لازوال، میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے، خواجہ آصف کی وضاحت

نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین نے پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اس لیے انہیں نمائندگی سے محروم کرنا یا ان کے سیاسی حق کو محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کو تین مختلف تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول پہلی اور سب سے اہم کیٹیگری مقبوضہ کشمیر کے ان عوام کی ہے جو گزشتہ 75 برس سے جدوجہد اور قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے محبت لازوال ہے اور آزادی کی تحریکوں کی تاریخ میں ان کی قربانیاں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دوسری کیٹیگری ان کشمیری مہاجرین کی ہے جنہوں نے تقسیم ہند یا اس کے بعد کے ادوار میں ہجرت کی اور مشکلات و مصائب کا سامنا کیا۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر میں ریاست مخالف ایجنڈا نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، خواجہ آصف نے ایکشن کمیٹی پر واضح کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ان مہاجرین کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا  تاہم افسوس کی بات ہے کہ آج ان کی نمائندہ نشستوں کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ تیسری کیٹیگری آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ رہائشیوں کی ہے جن کی اپنی شناخت اور خدمات ہیں، تاہم ان کے نزدیک مقبوضہ کشمیر کے عوام اور کشمیری مہاجرین کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بھارتی پنجاب سے ہجرت کرکے آنے والے لاکھوں افراد نے بھی بے شمار قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اپنا خاندان سیالکوٹ میں مقیم تھا جبکہ ہجرت کرنے والے مہاجرین نے زیادہ مشکلات برداشت کیں اس لیے ان کا استحقاق زیادہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے میں سنہ 1947 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جس پیمانے پر قربانیاں دی گئی ہیں اس کی مثال کم ملتی ہے اور جو لوگ عملی جدوجہد اور مزاحمت کا حصہ رہے ہیں ان کے حقوق اور استحقاق کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔

مزید پڑھیں: خواجہ آصف نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی نمائندگی دینے کی بلاول بھٹو کی تجویز کی حمایت کردی

مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ ثالثی کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر قومی اسمبلی کے فلور پر بھی اظہار خیال کر چکے ہیں۔ ان کے بقول اگر مولانا فضل الرحمان فریقین کے درمیان مصالحت اور مذاکرات کے لیے کوئی کردار ادا کرتے ہیں تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گے اور اگر تمام متعلقہ فریق متفق ہو جائیں تو وہ بھی اس عمل کی حمایت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز ڈسکوری کے اربوں ڈالر کے انضمام کو عدالتی حکم سے روک دیا گیا

فیفا ورلڈ کپ 2026 جیتنے پر اسپین پر ڈالروں کی بارش، کتنا انعام ملا؟

کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، دھوئیں نے امریکا کے کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا

سی پی ایل 2026، صائم ایوب جمیکا کنگز مین اسکواڈ کا حصہ بن گئے

پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں متوقع

کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟

نورین نیازی کے بیان پر عوام کا شدید غصہ، مولانا فضل الرحمان معافی نہ مانگنے پر بضد، کالعدم ایکشن کمیٹی کی بڑی سازش

کالم / تجزیہ

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟

ایک اور وکلا تحریک: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں