امریکا اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات یاد آگئے

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت کے باوجود سفارتی حل کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دفاع اور سفارت کاری دونوں راستوں پر عمل پیرا رہے گا اور مذاکرات کے ذریعے بھی اپنے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ ہو اور ایران اس پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ ہو۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں شدت لا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا اکیلا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے مال فراہم کریں: روبیو

انہوں نے کہا، ’ہم ہمیشہ سفارت کاری کے لیے تیار رہتے ہیں، لیکن یہ حقیقی ہونی چاہیے اور ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس پر فریق عمل کرنے کے لیے تیار ہو۔‘

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی قومی مفادات کی بنیاد پر ترتیب دیتا ہے اور سفارت کاری کو بھی اسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے یہ سوال کیے جانے پر کہ آیا امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ اب بند ہو چکا ہے، اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ ’جنگ یا سفارت کاری‘ کی دو انتہاؤں پر مبنی سوچ کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’میں جنگ یا سفارت کاری کی اس دوئی کو مسترد کرتا ہوں۔ سفارت کاری بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دفاعی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے ایران جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی، ٹرمپ مستقبل کی حکمتِ عملی پر خاموش

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ جس طرح مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ثابت قدم ہیں، اسی طرح سفارت کاروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے دباؤ اور مختلف حربوں کے باوجود مذاکرات کے ذریعے ایران کے حقوق اور قومی مفادات کا تحفظ کریں۔

امریکا اور ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک سخت کشیدگی اور فوجی تناؤ کے باوجود سفارتی رابطوں کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہے، تاہم دونوں جانب مذاکرات کے لیے اپنی اپنی شرائط اور مؤقف برقرار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا