چین نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب سمیت تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیتے ہوئے شہری تنصیبات پر حملوں کی مخالفت کی ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو ہی ترجیح دی جانی چاہیے۔
بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے کہا کہ چین شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’سعودی عرب اور دیگر تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیے جنگِ ایران: چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا
لِن جیان نے مزید کہا کہ چین کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کا حل سیاسی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جلد از جلد امن اور استحکام بحال ہو سکے۔
چین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے یمن سے حوثی گروپ کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے، کے مطابق میزائلوں کا ہدف سعودی عرب کا جنوبی علاقہ تھا، تاہم فضائی دفاعی نظام نے انہیں بروقت ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے چین اور سعودی عرب کے تعاون سے دوسرے زرعی انقلاب کا حکومتی منصوبہ کیا ہے؟
یہ حملہ اس کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا جب یمن کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا۔ وزارت دفاع کے مطابق حوثیوں نے یمنی پروازوں کو ایئرپورٹ پر اترنے سے روکا، جبکہ ایک ایرانی طیارے کو یمنی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لینڈنگ کی اجازت دی گئی۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوابی حملوں کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور پیر کو دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل دسویں روز بھی جاری رہا۔














