فلسطینی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنا نیا مستقل سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ خلیل الحیہ کا شمار حماس کے سینیئر اور بااثر رہنماؤں میں ہوتا ہے، جبکہ ان کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی صورتحال، جنگ بندی مذاکرات اور خطے کی سیاسی کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
خلیل الحیہ 5 نومبر 1960 کو غزہ میں پیدا ہوئے۔ وہ 1987 میں حماس کے قیام سے ہی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہیں۔ حماس کے قیام سے قبل وہ اخوان المسلمون سے منسلک رہے، جس سے بعد میں حماس وجود میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: خلیل الحیہ حماس کے نئے سربراہ منتخب ہوگئے
خلیل الحیہ 2006 سے فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے حماس میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جن میں تنظیم کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ کا عہدہ بھی شامل ہے۔
حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خلیل الحیہ کا سیاسی کردار مزید نمایاں ہوا۔ اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ السنوار کی ہلاکتوں کے بعد وہ تنظیم کی اہم قیادت میں شامل ہو گئے اور پانچ رکنی قیادتی کونسل کے رکن کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فضائی حملے میں حماس مذاکرات کار خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی جاں بحق
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیل الحیہ حماس کی بیرونِ ملک سیاسی قیادت کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ قطر میں مقیم رہتے ہوئے تنظیم کے سیاسی اور سفارتی معاملات میں سرگرم رہے اور اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات میں حماس کے وفود کی قیادت بھی کرتے رہے۔
خلیل الحیہ نے ایران سمیت خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کے معاملات میں بھی کردار ادا کیا، جبکہ شام کے ساتھ حماس کے تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں بھی شامل رہے۔
ذاتی زندگی میں نقصانات
یاد رہے کہ خلیل الحیہ اسرائیلی حملوں میں اپنے 4 بیٹے کھو چکے ہیں۔ دو بیٹے 2008 اور 2014 کی جنگوں میں شہید ہوئے تھے جبکہ ایک بیٹا گزشتہ برس دوحہ میں اسرائیلی کارروائی کے دوران جاں بحق ہوا تھا۔
مئی 2026 میں ان کا عزام خلیل الحیہ بھی شہید ہوگئے، غزہ شہر کے دراج محلے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں عزام خلیل الحیہ شدید زخمی ہوگئے تھے، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ سنوار نے شہادت سے کتنے دن پہلے آخری کھانا کھایا تھا؟
خلیل الحیہ کی بہو اور 3 پوتے بھی ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے، خلیل الحیہ ماضی میں کئی مرتبہ اسرائیلی حراست کا سامنا بھی کر چکے ہیں۔
خلیل الحیہ کی بطور سربراہ حماس تقرری ایک ایسے مرحلے پر ہوئی ہے جب غزہ میں جاری تنازع، جنگ بندی کی کوششیں اور مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال انتہائی اہم دور سے گزر رہی ہے۔













