ہر گاؤں میں سیاست، ہر گھر میں الیکشن کا ماحول، آزاد کشمیر کے انتخابات ملک کے دیگر حصوں سے مختلف کیسے؟

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں بھی ہر پانچ سال بعد عام انتخابات ہوتے ہیں، لیکن ان انتخابات کی اپنی ایک منفرد روایت اور ماحول ہے۔ یہاں انتخابات صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو قریباً پورا سال لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا رہتا ہے۔ دیہات کی بیٹھکوں سے لے کر بازاروں، چائے خانوں، شادی بیاہ کی تقریبات، سرکاری دفاتر اور سوشل میڈیا تک ہر جگہ سیاست زیر بحث رہتی ہے۔

یوں تو انتخابات سے کئی ماہ پہلے ہی امیدوار اپنے حلقوں میں متحرک ہونا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن آخری 2 سے 3 ماہ میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آزاد کشمیر کے قریباً ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں روزانہ کئی انتخابی جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی ملاقاتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: کون سے سابق وزرائے اعظم اس معرکے کا حصہ ہیں؟

اس بار آزاد کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے انتخابی مہم عروج پر پہنچ چکی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

ہر گاؤں میں سیاست، الیکشن قریب آتے ہی گہما گہمی

انتخابی موسم شروع ہوتے ہی گاؤں کی بیٹھکیں، چائے کے ہوٹل اور بازار سیاسی مباحثوں کے مراکز بن جاتے ہیں۔ لوگ امیدواروں کی کارکردگی، پارٹیوں کے منشور اور حلقے کے مسائل پر گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں۔

شام ڈھلتے ہی مختلف دیہات میں کارنر میٹنگز سج جاتی ہیں، جہاں امیدوار چند درجن افراد سے لے کر سینکڑوں افراد تک سے براہ راست ملاقات کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتے ہوئے بھی آپس کے سماجی تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔

انتخابی مہم کا عروج مگر تلخی کم

آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ شدید انتخابی مقابلے کے باوجود سیاسی ہم آہنگی نسبتاً زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو مخالف امیدوار کسی جلسے، جنازے، شادی یا بازار میں اچانک آمنے سامنے آ جائیں تو ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں، گلے ملتے ہیں اور خیریت دریافت کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک امیدوار کا قافلہ گزر رہا ہو اور سامنے مخالف امیدوار مل جائے تو دونوں چند لمحے رک کر خوش اخلاقی سے گفتگو کرتے ہیں۔

اسی طرح مختلف جماعتوں کے کارکن بھی سیاسی اختلاف کے باوجود ذاتی تعلقات قائم رکھتے ہیں، جو آزاد کشمیر کو پاکستان کے کئی دوسرے علاقوں سے منفرد بناتا ہے۔

’امیدوار ہر دروازے پر جاتا ہے‘

آزاد کشمیر کے حلقے نسبتاً چھوٹے ہونے کی وجہ سے امیدواران اسمبلی زیادہ تر ووٹرز تک براہ راست پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صبح سے رات گئے تک گھر گھر ملاقاتیں، تعزیت، عیادت، شادیوں میں شرکت اور عوامی تقریبات میں موجودگی انتخابی مہم کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر میں کامیاب امیدوار وہی بنتا ہے جو صرف جلسے نہ کرے بلکہ لوگوں کے درمیان مسلسل موجود بھی رہے۔

’امیدوار کا خاندان بھی انتخابی مہم کا حصہ بن جاتا ہے‘

آزاد کشمیر میں انتخابی مہم صرف امیدوار تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورا خاندان اس کا حصہ بن جاتا ہے۔

الیکشن مہم کے دوران خواتین خواتین سے ملاقاتیں کرتی ہیں، نوجوان سوشل میڈیا مہم چلاتے ہیں جبکہ بزرگ اپنے اپنے حلقہ احباب میں امیدوار کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیہات میں تو بعض اوقات پورا محلہ یا برادری ایک امیدوار کی انتخابی مہم میں شریک دکھائی دیتی ہے۔

آخری ہفتہ سب سے زیادہ اہم

پولنگ سے قریباً ایک ہفتہ پہلے انتخابی سرگرمیاں اپنے نقطہ عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔

جلسوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، قومی اور مقامی قیادت حلقوں کا رخ کرتی ہے، گاڑیوں کے قافلے نکلتے ہیں، بینرز اور جھنڈوں سے بازار سج جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی انتخابی مہم انتہائی تیز ہو جاتی ہے۔

اسی دوران الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کراتا ہے تاکہ انتخابی مہم قانون کے مطابق جاری رہے۔

پولنگ سے ایک روز قبل انتخابی مہم ختم ہو جاتی ہے۔ جلسے جلوس رک جاتے ہیں، لاؤڈ اسپیکر خاموش ہو جاتے ہیں اور امیدوار اپنے پولنگ ایجنٹس اور انتخابی عملے کے ساتھ آخری مشاورت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن بیلٹ پیپرز، انتخابی سامان اور پولنگ عملے کو متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچاتا ہے تاکہ اگلے روز ووٹنگ بروقت شروع ہو سکے۔

پولنگ کے روز صبح سویرے ہی ووٹرز پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دیہات میں اکثر خاندان اکٹھے ووٹ ڈالنے جاتے ہیں، جبکہ شہروں میں بھی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر خاصی چہل پہل دیکھنے کو ملتی ہے۔

ہر پولنگ اسٹیشن پر پریذائیڈنگ افسر، پولنگ افسران، پولیس، سیکیورٹی اہلکار اور امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس موجود ہوتے ہیں۔ ووٹر شناختی کارڈ کی تصدیق کے بعد بیلٹ پیپر وصول کرتا ہے، اپنی پسند کے امیدوار پر مہر لگا کر ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالتا ہے۔

’انتخابی عمل کا آخری مرحلہ‘

پولنگ ختم ہوتے ہی اسی پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہوتے ہیں اور پورا آزاد کشمیر ٹیلی ویژن اسکرینوں، موبائل فونز اور سوشل میڈیا پر نظریں جمائے رکھتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مقابلہ ختم ہونے کے بعد اکثر امیدوار ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔ کامیاب امیدوار کے گھر کارکن جشن مناتے ہیں، جبکہ شکست کھانے والے امیدوار بھی اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اگلے انتخاب کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔

’ایک منفرد سیاسی روایت‘

آزاد کشمیر کے انتخابات کو صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایک ایسی جمہوری روایت ہے جس میں سیاست، سماجی روابط، برادری، رواداری اور عوامی رابطہ سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

یہی وجہ ہے کہ یہاں انتخابی مقابلہ جتنا سخت ہوتا ہے، انتخابی ماحول اتنا ہی سماجی بھی ہوتا ہے۔ مخالف امیدوار ایک دوسرے کے سیاسی حریف ضرور ہوتے ہیں، لیکن ذاتی تعلقات اور باہمی احترام اکثر برقرار رہتا ہے، اور یہی آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست کی ایک منفرد پہچان سمجھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے