چین میں کھانا پہنچانے والے ایک رائیڈر نے اپنی شاعری سے ایسا مقام حاصل کرلیا کہ اسے ملک کے سب سے معتبر ادبی اعزازات میں شامل ’لو ژون ادبی انعام‘ سے نواز دیا گیا۔
56 سالہ وانگ جیبنگ دن کے وقت موٹر سائیکل پر کھانے کی ترسیل کرتے ہیں جبکہ رات کو شاعری لکھتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’کم پرواز‘ نے انہیں چین کے نویں ’لو ژون ادبی انعام‘ کے شعری شعبے میں کامیابی دلائی۔
یہ بھی پڑھیں: صوفی شاعر رومی کے نام پر پشاور کا کیفے: ’یہاں آکر روح کو سکون ملتا ہے‘
وانگ جیبنگ نے 2019 میں چین کے صوبہ جیانگ سو کے شہر کنشان میں کھانا پہنچانے کا کام شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے تجربات، ڈیلیوری ورکرز کی مشکلات اور عام لوگوں کی زندگیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔

رپورٹس کے مطابق وانگ اب تک 6 ہزار سے زائد نظمیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی مشہور نظم ’جلدی میں انسان‘ 2022 میں چینی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مقبول ہوئی، جس میں انہوں نے ایک مشکل ڈیلیوری کے تجربے کو شاعری میں بیان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بیجنگ سمٹ: مصافحہ، فلسفہ اور فرائیڈ چکن موضوع بحث کیوں بنے؟
ان کے انعام یافتہ شعری مجموعے ’کم پرواز‘ کے لیے انہوں نے متعدد ڈیلیوری رائیڈرز کے انٹرویوز کیے تاکہ ان کی روزمرہ جدوجہد، دباؤ اور امیدوں کو الفاظ میں ڈھالا جا سکے۔
وانگ جیبنگ کا کہنا ہے کہ ادبی انعام ملنے کے باوجود وہ اپنی زندگی میں تبدیلی نہیں لائیں گے اور کھانا پہنچانے کا کام جاری رکھیں گے، کیونکہ یہی تجربات انہیں لکھنے کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں۔
چینی ادبی حلقوں میں وانگ کی کامیابی کو عام محنت کش طبقے کی آواز کو جگہ ملنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی شاعری میں روزمرہ زندگی اور عام کارکنوں کے مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔














