بیجنگ سمٹ: مصافحہ، فلسفہ اور فرائیڈ چکن موضوع بحث کیوں بنے؟

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات عالمی سیاست کا مرکز بنی رہی۔

 ایران جنگ، یوکرین تنازع اور اقتصادی تعاون سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال اپنی جگہ لیکن باضابطہ مذاکرات سے ہٹ کر بھی اس سربراہی ملاقات کے کئی دلچسپ پہلو توجہ کا مرکز بنے رہے۔

دوستی کا ذکر، مگر محتاط انداز

بیجنگ کے عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں ملاقات کے آغاز پرصدرٹرمپ نے شی جن پنگ کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے ان کا دوست ہونا اپنے لیے اعزاز قراردیا۔

ٹرمپ نے پرانے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما مشکل اوقات میں بھی رابطے میں رہے اور اختلافات کو بات چیت سے حل کرتے رہے۔

ان کے بقول، میں آپ کو فون کرتا تھا اور آپ مجھے فون کرتے تھے۔

شی جن پنگ نے اگرچہ خوشگوار تعلقات کا اشارہ دیا، تاہم انہوں نے ٹرمپ کے لیے ‘ذاتی دوست’ کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کیا۔

چینی صدر نے صرف اتنا کہا کہ امریکا اور چین کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ شی جن پنگ ماضی میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنا بہترین دوست قرار دے چکے ہیں، جبکہ وہ شمالی کوریا، پاکستان اور فرانس سمیت کئی ممالک کے ساتھ دوستی کی اصطلاح استعمال کرتے رہے ہیں۔

!پرجوش معانقہ نہیں، صرف مصافحہ

ٹرمپ نے چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر پیش گوئی کی تھی کہ شی جن پنگ بیجنگ پہنچنے پر انہیں گرمجوشی سے گلے لگائیں گے۔

یہ انداز ٹرمپ کی روایتی، پرجوش اور غیر رسمی سفارت کاری کی عکاسی کرتا تھا، جو شی جن پنگ کی محتاط اور سنجیدہ شخصیت سے بالکل مختلف سمجھی جاتی ہے۔

تاہم جمعرات کی صبح امریکی صدر کو متوقع گرمجوش معانقے کے بجائے صرف ایک مضبوط مصافحہ نصیب ہوا۔

دونوں رہنماؤں کا مصافحہ 10 سیکنڈ سے زیادہ جاری رہا، جبکہ ٹرمپ نے دورانِ مصافحہ شی جن پنگ کے بازو پر 2 مرتبہ ہاتھ بھی رکھا۔

تھیوسیڈائڈز ٹریپ کا حوالہ

شی جن پنگ اکثر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں قدیم چینی اقوال اور شاعری کا حوالہ دیتے ہیں، مگر اس مرتبہ انہوں نے قدیم یونانی تاریخ سے جڑی ایک سیاسی اصطلاح ‘تھیوسیڈائڈز ٹریپ’ کا ذکر کیا۔

یہ اصطلاح اس تصور کی نمائندگی کرتی ہے کہ جب کوئی ابھرتی ہوئی طاقت کسی قائم عالمی طاقت کو چیلنج کرتی ہے تو جنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

شی جن پنگ نے سوال اٹھایا کہ کیا چین اور امریکا نام نہاد ‘تھیوسیڈائڈز ٹریپ’ سے نکل کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا نیا ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں، ان کے مطابق، اس سوال کا جواب دونوں رہنماؤں کو مل کر لکھنا ہوگا۔

اس سے قبل 2024 میں سابق امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات کے دوران بھی شی جن پنگ کہہ چکے ہیں کہ یہ تاریخی طورپرناگزیرنہیں۔

صحافیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں میں تلخی

ملاقات کے موقع پر امریکی میڈیا نمائندوں اور چینی سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

گریٹ ہال آف دی پیپل میں صحافی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔

جبکہ پس منظر میں چینی اہلکار میڈیا نمائندوں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایات دیتے سنائی دیے۔

بعد ازاں تاریخی ٹیمپل آف ہیون کے دورے کے دوران امریکی صحافیوں کو تقریباً آدھے گھنٹے تک داخلے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

کیونکہ چینی سیکیورٹی نے ابتدائی طور پر امریکی خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کو اسلحے سمیت اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب امریکی عملے اور صحافیوں کو صدارتی قافلے تک پہنچنے سے بھی روک دیا گیا۔

بعد میں اجازت ملنے پر ایک امریکی اہلکار کو چینی عملے سے یہ کہتے سنا گیا کہ آپ لوگ بہت خراب میزبان ثابت ہوئے ہیں۔

میمز، فرائیڈ چکن اور ایلون مسک

بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات نے چینی سوشل میڈیا پر بھی ہلچل مچا دی۔

متعدد صارفین نے ٹرمپ کے دورے کو چین میں مقبول ‘کریزی تھرس ڈے’ مہم سے جوڑ دیا، جو فاسٹ فوڈ کمپنی کے ایف سی کی جانب سے ہر جمعرات خصوصی رعایتوں کی پیشکش سے متعلق ہے۔

کئی صارفین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹرمپ کی فرائیڈ چکن کھاتے ہوئے مزاحیہ تصاویر اور میمز بھی بنائیں۔

دورے سے متعلق مختلف ہیش ٹیگز چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر ٹرینڈ کرتے رہے۔ ٹیمپل آف ہیون کے دورے سے متعلق ایک ہیش ٹیگ نے چند گھنٹوں میں تقریباً 98 ملین ویوز حاصل کیے۔

 امریکی کاروباری وفد میں شامل ایلون مسک اور جینسن ہوانگ بھی چینی صارفین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

خاص طور پر ایلون مسک کی وہ ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں وہ گریٹ ہال آف دی پیپل کی سیڑھیوں پر کھڑے اپنے موبائل فون سے مناظر ریکارڈ کرتے دکھائی دیے۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا، یہ منظر امریکا میں کہیں نہیں مل سکتا، جبکہ ایک اور نے طنزیہ انداز میں لکھا، ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی نے پہلی بار دنیا دیکھی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp