سٹی کورٹ میں سانحہ گل پلازہ کا چالان مسترد کیوں ہوا اور ازسرنو تحقیقات کرانے کا حکم کیوں سامنے آیا؟

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں گل پلازہ کے دلخراش آتش زدگی واقعے کے کچھ عرصے بعد سٹی کورٹ کی ایک عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ حیرت انگیز طور پر یہ حادثہ اسی عدالت کی عمارت کے قریب پیش آیا جس نے گل پلازہ کے تفتیشی چالان کا فیصلہ سنانا تھا۔ تاہم، سٹی کورٹ میں عملے اور پولیس کی بروقت کارروائی سے آگ پر فوری قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ’بیٹا! اس کیس کو کیوں فالو کرنا ہے؟‘ گل پلازہ سانحہ اور عدالت کا تاریخی فیصلہ

ایک عدالتی ذریعے کے مطابق، سماعت کے دوران وکیلِ سرکار نے عدالت کو بتایا کہ آتش زدگی کا حادثہ تو سٹی کورٹ میں بھی ہوا، لیکن یہاں سے لوگوں کا اخراج انتہائی آسان تھا، جب کہ گل پلازہ میں حفاظتی تدابیر کے شدید فقدان کی وجہ سے یہ واقعہ ایک خوفناک سانحے میں تبدیل ہو گیا۔

چالان کی منسوخی کا پس منظر اور تفتیشی خامیوں پر عدالتی برہمی

جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے گل پلازہ آتش زدگی کیس کا چالان مسترد کرنے اور دوبارہ نئی تحقیقات کا حکم دینے کے پیچھے اہم پس منظر اور سنگین تفتیشی خامیاں شامل تھیں۔

پراسیکیوشن کے تحفظات

وکیلِ سرکار ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے پولیس کی تیار کردہ تفتیشی رپورٹ کی خامیاں دور کرنے کے لیے 3 بار واپس لوٹایا تھا۔ تفتیشی افسر نے رپورٹ میں موجود سنگین نقائص کو دور کیے بغیر ہی چالان عدالت میں جمع کرایا۔

متعلقہ اداروں کی غفلت کو نظر انداز کرنا

عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ تفتیش کار نے تمام تر ملبہ صرف عام افراد یا دکانداروں پر ڈالنے کی کوشش کی اور ان سرکاری اداروں کا احتساب ہی نہیں کیا جو عمارتوں میں فائر سیفٹی یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور کے ایم سی

عمارت کے منظور شدہ نقشے اور غیر قانونی تعمیرات پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ 2022 میں فائر سیفٹی سے متعلق نوٹسز کے باوجود انتباہی اقدامات اور نوٹسز پر عمل درآمد کیوں نہ کرایا گیا؟

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سانحہ: تفتیشی افسر کی تبدیلی، تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات کیا نئی سمت اختیار کریں گے؟

عدالت نے نوٹ کیا کہ سٹی کورٹ میں رش کے باوجود لوگ محفوظ رہے کیونکہ وہاں راستے کھلے تھے، جبکہ گل پلازہ جیسے انتہائی رش والے کمرشل مرکز میں خارجی دروازے بند تھے اور جو کھلے بھی تھے ان کا نہ تو لوگوں کو علم تھا اور نہ ہی کوئی رہنمائی کا نظام تھا۔

اعلیٰ حکام کو نئی تحقیقات کا حکم

عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کردہ نامکمل، ناقص اور غیر تسلی بخش تفتیش کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو ہدایت کی کہ کیس کی دوبارہ تفتیش کے لیے ڈی ایس پی رینک کے کسی سینئر اور تجربہ کار افسر کو مقرر کیا جائے۔

نئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، کے ایم سی اور پلازہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا تعین کرتے ہوئے 15 دن کے اندر نئی اور شفاف تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار