سائنسدانوں نے آسٹریلیا کے عظیم بیریئر ریف کو بڑے پیمانے پر مرجان کی سفیدی اور ماحولیاتی نظام کے خاتمے کے شدید خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے زندہ ڈھانچے کے طور پر مشہور عظیم بیریئر ریف کو رواں برس شدید موسمی اثرات اور ایل نینو کے باعث غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرجانی چٹانوں کی شدید گرمی میں زندہ رہنے کی صلاحیت: موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں امید کی نئی کرن
ماہرین کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران اس علاقے میں سخت مرجانوں کی مقدار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کئی برسوں سے جاری مرجانوں کی بڑے پیمانے پر سفیدی نے اس نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔
کوئنزلینڈ کی جیمز کک یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات مورگن پراچیٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شدید ایل نینو کے بعد آنے والی کوئی بڑی تباہی مقامی سطح پر کئی اقسام کے جانداروں کے خاتمے اور پورے ماحولیاتی نظام کے بکھرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے سمندری علوم کے پروفیسر اوو ہویگ گُلڈ برگ نے کہا کہ حکومتوں کی جانب سے بروقت اقدامات نہ کرنے سے صرف مرجانی چٹانوں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر سمندری حیات کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان کو روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا سب سے بڑا مرجان دریافت جسے خلا سے بھی دیکھا جاسکتا ہے
ماہرین کے مطابق گرم ہوتے سمندر، شدید موسمی واقعات، زرعی سرگرمیوں اور صنعتی آلودگی کے اخراج کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں میں بڑھتی تعمیرات بھی مرجانی نظام کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو 2021 سے عظیم بیریئر ریف کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، جب اسے خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم رواں سال اسے اس فہرست میں شامل ہونے سے بچا لیا گیا۔













