اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل نے امریکا میں ناظرین کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
گزشتہ اتوار کو ہونے والا یہ مقابلہ تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ امریکیوں نے دیکھا، جو امریکا میں فٹبال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
نیوجرسی میں کھیلے گئے فائنل میں مقررہ وقت تک دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کر سکیں، تاہم اسپین نے اضافی وقت کے 106ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کر کے ارجنٹینا کو ایک کے مقابلے میں صفر سے شکست دے کر عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا فیفا ورلڈ کپ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سو گئے تھے؟ حقیقت سامنے آگئی
براڈکاسٹرز کے مطابق فاکس کے انگریزی نشریاتی چینل پر 3 کروڑ 89 لاکھ افراد نے میچ دیکھا، جبکہ کومکاسٹ کے ہسپانوی زبان کے چینل ٹیلی مونڈو اور اس کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم پیکاک پر مزید 2 کروڑ 39 لاکھ ناظرین نے فائنل دیکھا۔
اس طرح مجموعی ناظرین کی تعداد تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ رہی، جو قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ فائنل کے دوران امریکا میں میچ دیکھنے والے 2 کروڑ 23 لاکھ افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ کی نشریات دونوں براڈکاسٹرز کے لیے بھی انتہائی کامیاب ثابت ہوئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فاکس نے ورلڈ کپ سمیت نشریاتی حقوق کے لیے تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ کومکاسٹ نے 60 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔
ٹورنامنٹ کے دوران کئی ناک آؤٹ مرحلے کے مقابلوں نے امریکا کی دیگر بڑی کھیلوں کی چیمپیئن شپ کے مقابلوں کو بھی ناظرین کی تعداد میں پیچھے چھوڑ دیا۔
انگلینڈ اور میکسیکو کے درمیان راؤنڈ آف 16 کے میچ کو تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ افراد نے دیکھا، جو میجر لیگ بیس بال کی ورلڈ سیریز کے فیصلہ کن میچ کے تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ اور این بی اے فائنلز کے 5ویں میچ کے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ناظرین سے کہیں زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 نے حاضری اور ٹی وی ناظرین کے تمام ریکارڈ توڑ دیے
اگرچہ یہ تعداد اب بھی سپر باؤل ایل ایکس کے تقریباً 12 کروڑ 60 لاکھ ناظرین سے کم رہی، تاہم اسے امریکا میں فٹبال کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں روایتی طور پر امریکن فٹبال، باسکٹ بال اور بیس بال زیادہ مقبول سمجھے جاتے ہیں۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں پہلی بار منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کو امریکی ناظرین کے لیے موزوں اوقات میں میچز کے آغاز کا بھی فائدہ ملا۔
اس کے علاوہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت نے بھی شائقین کی دلچسپی میں اضافہ کیا، اس سے قبل امریکا نے 1994 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔

فاکس کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم فاکس ون نے جون کے دوران 28 لاکھ نئے صارفین حاصل کیے، جو اس کے آغاز کے بعد کسی بھی مہینے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ہسپانوی زبان کے چینل ٹیلی مونڈو کو بھی امریکا میں ہسپانوی نژاد ناظرین کی بڑی تعداد کی وجہ سے غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔
فٹبال مارکیٹنگ کمپنی گاٹ ڈیجیٹل کے منیجنگ پارٹنر وینسینتے ناوارو کے مطابق دونوں براڈکاسٹرز کی ریٹنگز ان کے اپنے اندازوں سے کہیں زیادہ رہیں۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے وہ حیران کن اور جذباتی لمحات جو تاریخ کا حصہ بن گئے
ان کا کہنا تھا کہ ناک آؤٹ مرحلے کے دوران 30 سیکنڈ کے ایک اشتہار کی قیمت 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2018 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
اس دوران پیپسی، کوکا کولا، ہوم ڈیپو اور اینہائزر-بش سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے اشتہارات دیے، اس کے مقابلے میں سپر باؤل کے دوران 30 سیکنڈ کے ایک اشتہار کی قیمت عموماً 80 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔
واٹر بریکس بھی آمدنی کا ذریعہ
ٹورنامنٹ کے دوران متعارف کرائے گئے ہائیڈریشن یعنی واٹر بریکس بھی براڈکاسٹرز کے لیے اضافی آمدنی کا باعث بنے، ان وقفوں کے دوران مزید اشتہارات نشر کیے گئے، جس سے نشریاتی اداروں کو اضافی مالی فائدہ حاصل ہوا۔
ہالی ووڈ رپورٹر کی جون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صرف واٹربریکس کے اشتہارات سے فاکس کو کم از کم 25 کروڑ ڈالر کی آمدنی متوقع تھی، جبکہ ٹیلی مونڈو نے ان وقفوں کے دوران اشتہارات نشر نہیں کیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فارمیٹ آئندہ بھی برقرار رہا تو ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کی تجارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ورلڈ کپ میں شامل کیے گئے بعض امریکی طرز کے عناصر، جیسے سپر باؤل کی طرز کا ہاف ٹائم شو اور 27 منٹ کا وقفہ، آئندہ بھی برقرار رہیں گے یا نہیں۔
فیفا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فاتحین کو امریکی کھیلوں کی روایت کے مطابق چیمپیئن شپ رنگ بھی دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ، اسپین نے فاتح بن کر 50، ارجنٹائن نے 33 ملین ڈالر انعامی رقم حاصل کر لی
اگلا فیفا ورلڈ کپ 2030 میں اسپین، پرتگال اور مراکش کی مشترکہ میزبانی میں جبکہ 2034 کا ورلڈ کپ سعودی عرب میں کھیلا جائے گا۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ان ٹورنامنٹس کے میچز امریکی ناظرین کے لیے کم موزوں اوقات میں ہوں گے، جس کے باعث مستقبل میں ٹی وی ریٹنگز متاثر ہو سکتی ہیں۔














