فیفا ورلڈ کپ 2026 نے اسٹیڈیم میں شائقین کی حاضری، ٹیلی ویژن ناظرین اور تجارتی آمدنی کے حوالے سے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے وہ حیران کن اور جذباتی لمحات جو تاریخ کا حصہ بن گئے
صدر فیفا جیانی انفانٹینو کا کہنا ہے کہ 48 ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ توقعات سے کہیں بڑھ کر کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ 2026 نے ہماری تمام توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی جبکہ ٹیلی ویژن پر دیکھنے والوں کی تعداد نے گزشتہ تمام ریکارڈ کئی گنا پیچھے چھوڑ دیے۔
48 ٹیموں والا پہلا ورلڈ کپ
قطر میں منعقد ہونے والے سال 2022 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے مقابلے میں اس بار پہلی مرتبہ 48 ٹیموں نے حصہ لیا جس کے باعث ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے گئے۔ مقابلوں کی میزبانی مشترکہ طور پر امریکا، کینیڈا اور میکسیکو نے کی۔
اسٹیڈیمز میں ریکارڈ تعداد میں شائقین
فیفا کے مطابق تیسرے نمبر کے میچ اور فائنل سے قبل ہی 66 لاکھ سے زائد شائقین اسٹیڈیمز کا رخ کر چکے تھے۔
مزید پڑھیے: کیا فیفا نے ارجنٹینا کو ورلڈ کپ فائنل تک پہنچانے میں مدد دی؟ رونالڈو کے ایک لائیک نے نیا تنازع چھیڑ دیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو اسپین کی ارجنٹینا کے خلاف فائنل میں فتح کے بعد پورے ٹورنامنٹ کے دوران مجموعی حاضری تقریباً 68 لاکھ 10 ہزار (6.81 ملین) شائقین تک پہنچ گئی جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔
اس سے قبل ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ حاضری کا ریکارڈ سال 1994 میں امریکا میں منعقدہ ٹورنامنٹ کے دوران قائم ہوا تھا جب 35 لاکھ 87 ہزار 538 شائقین نے میچز دیکھے تھے۔
اسٹیڈیم تقریباً مکمل بھرے رہے
فیفا کے مطابق پورے ٹورنامنٹ کے دوران اسٹیڈیمز کی اوسط گنجائش 99.7 فیصد تک استعمال ہوئی، حالانکہ مہنگے ٹکٹوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر میچ میں اوسطاً 65 ہزار 351 شائقین موجود رہے۔
آمدنی میں بھی تاریخی اضافہ
ورلڈ کپ 2026 نے مالی لحاظ سے بھی فیفا کے لیے غیرمعمولی کامیابی حاصل کی۔
فیفا نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ ٹورنامنٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی 7 ارب یورو سے تجاوز کر جائے گی جو قطر ورلڈ کپ 2022 کے مقابلے میں تقریباً 56 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 جیتنے پر اسپین پر ڈالروں کی بارش، کتنا انعام ملا؟
اسی طرح ٹیلی ویژن نشریاتی حقوق سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 34 فیصد اضافے کے بعد یہ تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی جبکہ اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی 21 فیصد اضافے کا امکان بتایا گیا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی غیرمعمولی دلچسپی
فیفا کے مطابق راؤنڈ آف 16 کے اختتام تک دنیا بھر میں اربوں افراد مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ورلڈ کپ سے منسلک رہے اور آن لائن مقابلوں میں دلچسپی کا اظہار کرتے رہے جس سے ٹورنامنٹ کی عالمی مقبولیت مزید نمایاں ہوئی۔
سنہ 2030 میں 64 ٹیموں کے ورلڈ کپ پر غور
جیانی انفانٹینو نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ سنہ 2030 میں فیفا ورلڈ کپ کے صد سالہ ایڈیشن کے لیے ٹیموں کی تعداد 64 تک بڑھانے کی تجویز پر بھی غور جاری ہے۔
اگر اس تجویز کی منظوری دی گئی تو سال 2030 کا ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے بڑا عالمی فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کو تاریخ کا محفوظ ترین ٹورنامنٹ قرار دے دیا
ورلڈ کپ 2026 کی ریکارڈ کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ 48 ٹیموں پر مشتمل نیا فارمیٹ شائقین، براڈکاسٹرز اور اسپانسرز تینوں کے لیے انتہائی کامیاب ثابت ہوا ہے۔ اسی کامیابی کے باعث فیفا اب مستقبل میں ٹورنامنٹ کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔













