گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین نے اپنی کابینہ کے لیے 12 وزرا کا انتخاب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا کوٹلی میں انتخابی جلسہ: گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنائیں گے، بلاول بھٹو
اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق کابینہ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے ارکان کو شامل کیا گیا ہے۔
سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور کابینہ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیراعلیٰ امجد حسین کی سفارش پر گلگت بلتستان کے گورنر نے گلگت بلتستان اسمبلی کے 12 ارکان کو صوبائی وزرا مقرر کرنے کی منظوری دی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کابینہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 8 جبکہ استحکامِ پاکستان پارٹی کے 4 ارکان شامل کیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی سے ذوالفقار علی مراد، سید جلال شاہ، محمد علی اختر، نیک نام کریم، اقبال حسن، راجا ناصر خان، محمد نسیم اور سید توقیر مہدی کو وزیر مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح استحکامِ پاکستان پارٹی سے امان علی، اسد شفیق، انور علی اور محمد دلپذیر کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: گلگت بلتستان میں جنگلات کا تحفظ اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اولین ترجیح ہے، سیکریٹری جنگلات
نوٹیفکیشن میں کسی بھی وزیر کے قلمدان (محکمے) کا اعلان نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف وزارتوں کی تقسیم بعد میں کی جائے گی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ استحکامِ پاکستان پارٹی کے یہ چاروں ارکان 7 جون کو ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں آزاد امیدواروں کے طور پر کامیاب ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
اس وقت گلگت بلتستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 14، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 9، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 7، مجلس وحدت المسلمین کا ایک اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ ایک آزاد رکن موجود ہے۔
دوسری جانب جی بی اے-9 اسکردو-III کی نشست پر ضمنی انتخاب بھی متوقع ہے۔ گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا محمد نشاد کو کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے پر نااہل قرار دینے کے بعد الیکشن کمیشن نے اس نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان کیا تھا، تاہم ابھی تک پولنگ کی تاریخ جاری نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کے امجد حسین نے گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا
واضح رہے کہ حالیہ انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکامِ پاکستان پارٹی نے وزیراعلیٰ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا تاہم باہمی اتفاق کے تحت مسلم لیگ (ن) نے اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔













