پاکستان نے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) سے متعلق یورپی یونین کی حالیہ رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں پاکستان کی اصلاحات اور پیش رفت کو مناسب انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان یورپی رپورٹ میں قانون سازی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور جی ایس پی پلس کے تحت 27 بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کے اعتراف کا خیر مقدم کرتا ہے، تاہم مجموعی جائزہ متوازن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بنیاد ہے، دفتر خارجہ
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں 2014 سے اب تک پاکستان کی وسیع اصلاحات کو کم اہمیت دی گئی ہے، جبکہ چند شعبوں میں مطلوبہ رفتار سے کم پیش رفت پر غیر متناسب زور دیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے، جس سے برآمدات، روزگار، خواتین کی معاشی شمولیت، غربت میں کمی اور مجموعی معاشی ترقی کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی کمیشن اور دیگر یورپی اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا اور بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد
طاہر اندرابی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو بھی مکمل طور پر مسترد کردیا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ 16 مارچ کو کابل میں پاکستانی فضائی کارروائی کے دوران بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کروشیا کے وزیر خارجہ کل پاکستان کے تاریخی دورے پر پہنچیں گے، دفتر خارجہ
انہوں نے کہا کہ یہ الزامات کسی معتبر ثبوت کے بغیر لگائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی تمام فوجی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف، اپنی دفاعی ضرورت کے تحت اور آخری چارۂ کار کے طور پر کی گئیں، جبکہ شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی مکمل پابندی کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری اور ایمنسٹی انٹرنیشنل پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سمیت دیگر گروہوں کو ملنے والی پناہ گاہوں اور سہولتوں کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، کیونکہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر مسلسل حملوں کے باوجود خاموش نہیں رہ سکتی۔
اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج دو روزہ دورے پر کرغزستان روانہ ہوں گے، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
دورے کے دوران اسحاق ڈار کی کرغزستان کے صدر صدر جباروف سے ملاقات اور اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔














