یورپی یونین نے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (ڈی ایم اے) کی خلاف ورزی پر گوگل پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب ڈالر) جرمانہ عائد کر دیا۔
ریگولیٹر کے مطابق گوگل نے سرچ نتائج میں اپنی سروسز کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دی اور گوگل پلے کے ذریعے ایپ ڈویلپرز پر بھی غیر ضروری پابندیاں عائد کیں۔
یہ بھی پڑھیں:گوگل پر پوری دنیا کی کل دولت سے زائد جرمانہ کیوں عائد کیا گیا؟
ریگولیٹر کے الزامات
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے شاپنگ، ہوٹلز اور دیگر اپنی سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ فریقِ ثالث کی خدمات کو یکساں اہمیت نہیں دی گئی، جو ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
گوگل پلے سے متعلق بھی اعتراضات
کمیشن کے مطابق گوگل نے ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل اور بعض اوقات سستی آفرز سے آگاہ کرنے یا انہیں گوگل پلے اسٹور سے باہر موجود ویب سائٹس اور دیگر پلیٹ فارمز کی طرف رہنمائی کرنے سے مؤثر طور پر روکے رکھا، جو یورپی قوانین کے منافی ہے۔
گوگل کا ردعمل
گوگل اور الفابیٹ کے صدر برائے عالمی امور کینٹ واکر نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ پر موجودہ انداز میں عمل درآمد سے یورپی صارفین کی پسندیدہ سرچ سہولتیں متاثر ہوں گی اور گوگل پلے کے سکیورٹی تحفظات بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور اپیل دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:گوگل کی اشتہاراتی جنگ: ٹریڈ مارک کیس میں شکست کے بعد عدالت میں اپیل دائر
60 روز میں عمل درآمد کی ہدایت
یورپی کمیشن نے گوگل کو 60 روز کے اندر سرچ نتائج اور گوگل پلے کی پالیسیوں کو قوانین کے مطابق بنانے کا حکم دیا ہے۔ بصورت دیگر کمپنی کو عالمی آمدنی کے 5 فیصد تک اضافی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کا پس منظر
یورپی یونین نے 2024 میں نافذ کیے گئے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت گوگل، ایپل اور میٹا سمیت بڑی ٹیک کمپنیوں کو ‘گیٹ کیپرز’ قرار دیا تھا تاکہ ڈیجیٹل مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔














