پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اہم پیشرفت، امریکا اور کویت کے ساتھ نئے تعاون کی راہ ہموار

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کو معاشی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی جانب لے جانے کے لیے عالمی سطح پر اہم سفارتی اور معاشی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے کویت اور امریکی ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ تیل و گیس کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کے اقدامات تیز کر دیے ہیں جن کا مقصد سرمایہ کاری بڑھانا، جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔

کویتی کمپنی کی پاکستان کے اپ اسٹریم سیکٹر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک سے اسلام آباد میں کویتی فارن پیٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنی (کفپک) کے نائب صدر برائے آپریشنز طارق ابراہیم نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور روس میں تجارت، توانائی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعلقات نصف صدی پر محیط ہیں جبکہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت دے رہی ہے۔

ملاقات میں کویتی کمپنی نے پاکستان کے اپ اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر، یعنی تیل و گیس کے نئے ذخائر کی تلاش اور پیداوار، میں اپنی سرمایہ کاری اور سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

امریکی کمپنی ہنوئیل کے ساتھ ریفائنریز کی جدید کاری پر مذاکرات

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ہنوئیل کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی پرانی آئل ریفائنریز کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مزید پڑھیے: امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

اس اقدام کا مقصد ملک میں اعلیٰ معیار کے ایندھن کی مقامی پیداوار بڑھانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت کرنا ہے۔

محمد اورنگزیب نے اس موقعے پر کہا کہ ریفائنری سیکٹر کی جدید کاری پاکستان کی توانائی سلامتی، صنعتی ترقی اور پائیدار معاشی نمو کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ان کے مطابق جدید ریفائنریز نہ صرف ملکی ضروریات پوری کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بھی بچائے جا سکیں گے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

معاشی و توانائی امور کے ماہر منور مرزا کا کہنا ہے کہ ہنوئیل کی جدید ٹیکنالوجی اور کویتی سرمایہ کاری سے پاکستان کے ڈاؤن اسٹریم اور اپ اسٹریم دونوں شعبوں کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیشتر ریفائنریز اس وقت یورو-5 معیار کا ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اگر ایگزم بینک یا ڈی ایف سی کے ذریعے مالی معاونت حاصل کر کے ان کی اپ گریڈیشن مکمل کر لی جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ میں سالانہ اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔

معاشی ماہر سلمان نقوی کے مطابق حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صرف قلیل المدتی بیل آؤٹ پیکجز پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری کے ذریعے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، زرمبادلہ کے بیک اسٹاپ فنڈز اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے معاشی خودکفالت کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریفائنری سیکٹر میں سرمایہ کاری سے پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات کے مطابق خام تیل کو مقامی سطح پر بہتر معیار کے ایندھن میں تبدیل کرنے کے قابل ہو جائے گا بلکہ مستقبل میں دوسرے ممالک کے خام تیل کو بھی ریفائن کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اویس لغاری

ان کے مطابق یہ پالیسی ملک کے لیے انتہائی اہم اور دور رس نتائج کی حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اقدامات پہلے کیے جاتے تو پاکستان آج کہیں زیادہ زرمبادلہ بچانے کی پوزیشن میں ہوتا تاہم اب بھی یہ حکمت عملی ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار