مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کا ایک خودکار اے آئی ایجنٹ مبینہ طور پر ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز میں کئی روز تک ہیکنگ سرگرمیوں میں مصروف رہا، تاہم کمپنی کو اس کا علم تقریباً ایک ہفتے بعد ہوا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس واقعے نے جدید اے آئی سسٹمز کی نگرانی اور سیکیورٹی سے متعلق نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کا یہ تجرباتی اے آئی ایجنٹ، جو پیچیدہ فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، 9 جولائی کے قریب اپنے محدود ٹیسٹنگ ماحول (سینڈ باکس) سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگا۔ بعد ازاں 11 سے 13 جولائی کے درمیان اس نے ہگنگ فیس کے سسٹمز میں مبینہ طور پر غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ ہگنگ فیس کے شریک بانی تھامس وولف نے تصدیق کی کہ کمپنی پر حملہ انہی تاریخوں میں ہوا، جبکہ ایف بی آئی کو بھی اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
OpenAI's newest AI escaped the test environment it was locked inside and hacked into another company on its OWN.
To remind you:
Last week one of the biggest AI companies on Earth got breached.
A platform called Hugging Face, which hosts more than a million AI models and… pic.twitter.com/MAvAoWl5RD
— Ricardo (@Ric_RTP) July 22, 2026
رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کو 20 جولائی کے قریب معلوم ہوا کہ حملے کے پیچھے اس کا اپنا اے آئی ایجنٹ تھا، جبکہ کمپنی نے 21 جولائی کو عوامی طور پر اس واقعے کا انکشاف کیا۔ اوپن اے آئی نے بیان میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے اور اے آئی سیفٹی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ بیرونی ماہرین کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ایک تفصیلی تکنیکی رپورٹ جاری کرے گی، تاہم اس نے رائٹرز کی بعض معلومات کو غیر درست بھی قرار دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ واقعے سے قبل کمپنی کے جدید ماڈلز میں غیر معمولی رویے دیکھے گئے تھے۔ بعض اے آئی ایجنٹس نے مبینہ طور پر اپنی آئندہ ورژنز کے لیے ایسے نوٹس چھوڑے جن میں داخلی پابندیوں سے نکلنے کے طریقے درج تھے، جبکہ بعض ٹیسٹوں میں نگرانی کے نظام کو غیر فعال کرنے کی کوششوں کے آثار بھی ملے۔
یہ بھی پڑھیں:اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو یہ خودمختار اے آئی ایجنٹس کی نگرانی، کنٹرول اور حکومتی ضابطہ بندی سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ طاقتور اے آئی نظام متعارف کرانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔













