دنیا میں پہلی بار ایبولا وائرس کے خلاف تیار کی گئی ایک نئی تجرباتی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت برطانیہ کے 37 سالہ رضاکار ایڈ ہنٹ کو ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں تیار کی گئی اس ویکسین کو صرف 8 ہفتوں میں تیار کیا گیا ہے اور یہ اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کے ذریعے آکسفورڈ-ایسٹرازینیکا کی کووڈ 19 ویکسین تیار کی گئی تھی.
اس آزمائش میں شامل ہونے والے پہلے رضاکار ایڈ ہنٹ نے بتایا کہ وہ پہلے بھی کووڈ ویکسین کے ٹرائل میں حصہ لینا چاہتے تھے، تاہم ملازمت کی مصروفیات کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: کانگو میں ایبولا پر قابو نہ پایا جا سکا، عالمی ایمرجنسی کے ایک ماہ بعد بھی بحران برقرار
ان کا کہنا تھا کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی تباہ کن وبا کی خبریں دیکھ کر انہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اس تحقیق کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
اس ابتدائی مرحلے میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 50 صحت مند رضاکاروں کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ویکسین کی حفاظت اور جسم میں مدافعتی ردعمل کا جائزہ لیا جا سکے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایبولا ویکسین تیار کرنے والی ٹیم کی سربراہ پروفیسر ٹریسا لیمب نے کہا کہ کئی دہائیوں کی تحقیق کی بدولت ان کی ٹیم اتنی مختصر مدت میں ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہوئی۔
First person gets new experimental vaccine for Ebola https://t.co/XfxMeKAsJv
— BBC News (UK) (@BBCNews) July 24, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹرائل میں کسی بھی رضاکار کو ایبولا وائرس نہیں دیا جائے گا، بلکہ صرف یہ جانچا جائے گا کہ ویکسین محفوظ ہے یا نہیں اور آیا یہ بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف مؤثر مدافعت پیدا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بنڈی بگیو قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف اس وقت 4 ویکسینز زیرِ تحقیق ہیں، تاہم انسانوں پر آزمائش کے مرحلے میں پہنچنے والی یہ پہلی ویکسین ہے۔
اگرچہ زائر قسم کے ایبولا وائرس کے خلاف ایک منظور شدہ ویکسین پہلے سے موجود ہے، لیکن وہ بنڈی بگیو وائرس کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: ایبولا وائرس پھیلنے کا خطرہ، یو اے ای نے 3 ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کردیں
آکسفورڈ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جلد ہی یوگنڈا میں بھی اس ویکسین کا ایک اور ابتدائی ٹرائل شروع کیا جائے گا، جس کے بعد جمہوریہ کانگو میں بڑے پیمانے پر اس کی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا۔
بھارت کے سیریم انسٹی ٹیوٹ نے اس ویکسین کی 6 لاکھ خوراکیں پہلے ہی تیار کر لی ہیں تاکہ اگر انسانی آزمائشیں کامیاب رہیں تو انہیں فوری طور پر استعمال میں لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ جمہوریہ کانگو میں اب تک ایبولا کے ڈھائی ہزار سے زائد تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔













