افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان میں طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اے ایف ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ بدخشان میں طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں، جبکہ طالبان ترجمان نے بھی ضلع زیبک میں جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔
اے ایف ایف کے مطابق بدخشان کے ضلع زیبک میں 23 جولائی کی صبح متعدد اطراف سے طالبان کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا گیا، جو تاحال جاری ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران 21 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ متعدد کمانڈرز بھی مارے گئے۔
اے ایف ایف نے مزید دعویٰ کیاکہ جھڑپوں میں طالبان کے 37 اہلکار زخمی ہوئے اور شدید مزاحمت کے باعث انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فیض آباد اور دیگر اضلاع کی جانب منتقل ہونا پڑا۔
طالبان کے سینیئر کمانڈر سمیت متعدد کمانڈرز کی ہلاکت کا دعویٰ
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق زیبک کی جھڑپوں میں کم از کم 3 مقامی طالبان کمانڈر مارے گئے، جبکہ طالبان کے سینیئر سرحدی کمانڈر فریداللہ وحدت کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ہیلی کاپٹر کو راکٹ سے نشانہ بنانے اور عسکری پوزیشنیں سنبھالنے کا دعویٰ
اے ایف ایف کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے ایک ہیلی کاپٹر کو راکٹ سے نشانہ بنایا۔ تنظیم کے مطابق متعدد طالبان چوکیاں اور بلند مقامات پر قائم عسکری پوزیشنیں بھی اس کے جنگجوؤں نے اپنے کنٹرول میں لے لی ہیں، جبکہ طالبان بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد پسپا ہو گئے۔
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ طالبان سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، فوجی سازوسامان اور دیگر جنگی سامان قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
درایم میں طالبان ہیڈکوارٹر پر راکٹ حملے
اے ایف ایف کے مطابق گزشتہ رات بدخشان کے ضلع درایم میں طالبان کے ہیڈکوارٹر پر متعدد راکٹ داغے گئے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
’جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو چکی‘
افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ داؤد ناجی نے کہاکہ طالبان کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آزادی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
طالبان نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کر دی
دوسری جانب طالبان کے ترجمان نوراللہ نظری نے تصدیق کی ہے کہ مسلح افراد نے ضلع زیبک کے توپ خانہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد دونوں جانب جھڑپیں ہوئیں۔













