نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے چناب پر خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ وزیرآباد میں پلکھو نالہ بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی سطح پر بہہ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں، مریم نواز کی ہدایت
ادارے کے مطابق دریائے سندھ کے کالاباغ، چشمہ اور تونسہ، دریائے چناب کے مرالہ اور تریموں، دریائے راوی کے بلوکی اور سدھنائی اور دریائے کابل کے نوشہرہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ اسی طرح نالہ ایک اور پلکھو نالہ کینٹ پل پر بھی پانی کی سطح نچلے درجے کے سیلاب کے برابر ہے۔
این ڈی ایم اے نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ تریموں بیراج پر بھی پانی کی سطح بڑھ کر درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ سکتی ہے۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں، خیبرپختونخوا کے موسمی برساتی نالوں اور شمالی بلوچستان کے بعض علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈ) کا بھی خطرہ موجود ہے۔
دوسری جانب شدید بارشوں کے باعث گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ملتان، حافظ آباد اور لاہور میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں اور سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔
ادارے نے متعلقہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں، امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور سڑکوں کی بندش کی صورت میں انہیں فوری طور پر بحال کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔
این ڈی ایم اے نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا، اس لیے شہری دریا کناروں، کھڑی ڈھلوانوں اور تنگ پہاڑی راستوں پر غیر ضروری قیام سے گریز کریں۔
عوام کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ سیلابی پانی، برساتی نالوں یا تیز بہاؤ والے راستوں کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور نہ کریں، کیونکہ کم گہرائی والا پانی بھی انسانوں اور گاڑیوں کو بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: مون سون بارشوں سے پاکستان 83 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے،ماہرین
این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے کہا ہے کہ بروقت وارننگز اور ہنگامی معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے بھی استفادہ کریں۔













