وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں حالیہ بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیں: مون سون بارشوں سے پاکستان 83 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے،ماہرین
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے خصوصاً والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو سیلابی ریلوں، نہروں اور برساتی پانی میں نہانے سے ہرگز نہ جانے دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کمزور چھتوں، خستہ حال دیواروں اور بوسیدہ عمارتوں میں رہائش پذیر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر ازخود محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں کو خستہ حال عمارتوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور ممکنہ خطرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو دریاؤں، نہروں اور سیلابی نالوں کی مسلسل مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور بالخصوص انڈر پاسز سے بارشی پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کو فیلڈ میں موجود رہنے اور بارشوں کے دوران صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بارشوں کے دوران ٹریفک کی روانی ہر صورت یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں: مون سون کے دوران صوبوں سے رابطے مزید مؤثر بنائے جائیں، وزیراعظم کی این ڈی ایم اے کو ہدایت
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام شہروں میں انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے بارشوں کے دوران پوری مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ بارشوں کے دوران عوام کی خدمت میں مصروف ہر افسر اور اہلکار کو سلام پیش کرتی ہیں اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔














