فرانس اور اسپین میں شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث بھڑکنے والی جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ آگ کے باعث ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے، جبکہ فرانس نے فوجی طیارے سمیت ہزاروں اہلکار آگ بجھانے کے لیے میدان میں اتار دیے ہیں۔
فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ بے قابو ہو گئی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک میں 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ متعدد علاقوں میں ہنگامی صورتحال برقرار ہے۔
🔥 Devastating #wildfires in #France #Spain force 220,000 evacuations
📍Southwestern France (near Bordeaux, Cap Ferret, Gironde & Landes and
📍Central Spain (west of Madrid & Ávila.
Evacuations: 200,000+ people forced to leave homes. Some escaped Cap Ferret by boat.Area… pic.twitter.com/DA73Gstjzz
— Shafek Koreshe (@shafeKoreshe) July 25, 2026
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اسپین کے وسطی علاقوں سے تقریباً 70 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ جنوبی یورپ میں مختلف مقامات پر لگی آگ کے باعث مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسپین کے شہر مانیسیس میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا، جو اس سال کی آگ سے پہلی ہلاکت ہے۔
فرانس کے جنوب مغربی علاقے گیروند میں آگ تیزی سے شہر بوردو کی جانب بڑھنے لگی تو حکومت نے خصوصی فوجی A400M طیارہ آگ بجھانے کے لیے تعینات کر دیا، جو شعلوں پر آگ بجھانے والا کیمیکل پھینک رہا ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم 18 طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، دھوئیں نے امریکا کے کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا
فرانسیسی حکومت نے گیروند میں 1,400 سے زائد فائر فائٹرز جبکہ لینڈز کے علاقے میں سیکڑوں مزید اہلکار تعینات کیے ہیں۔ فوجی دستوں کو بھی امدادی کارروائیوں میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ دھوئیں سے متاثرہ علاقوں کے لیے 15 لاکھ حفاظتی ماسک فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق آگ کے خطرے کے پیش نظر بوردو کے مغربی مضافات سمیت متعدد قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو فوری انخلا کے احکامات جاری کیے گئے۔ اب تک تقریباً 140 مکانات تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
آگ کی شدت کے باعث فرانس کے مشہور سائیکلنگ ایونٹ ٹور ڈی فرانس کے آخری مرحلے کا روٹ بھی تبدیل کر دیا گیا تاکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو امدادی کارروائیوں میں شامل کیا جا سکے۔
200,000 forced to FLEE as wildfires RAGE across France and Spain pic.twitter.com/xtyy7rHV0H
— Iruofagha the Eternal love 😂 (@EternalLoveLif1) July 25, 2026
اسپین میں بھی 2,600 سے زائد فائر فائٹرز، پولیس اہلکار اور ریسکیو ٹیمیں 19 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کئی مقامات پر براہ راست اس کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی، خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ کے جنگلات انتہائی آتش گیر ہو چکے ہیں۔ اسپین میں رواں سال اب تک تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار ہیکٹر جنگلات جل چکے ہیں، جو گزشتہ دس برس کی سالانہ اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
Military transport plane deployed in southwest France to tackle wildfires as 250K+ people forced to flee their homes pic.twitter.com/yqPgzEM59W
— RTVisual (@RT_Visual_on_X) July 25, 2026
یورپی ممالک اٹلی، یونان، پرتگال، کروشیا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، سویڈن، سلوواکیہ اور جمہوریہ چیک نے بھی فرانس اور اسپین کی مدد کے لیے آگ بجھانے والے طیارے اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض علاقوں میں موسم بہتر ہونے سے امید پیدا ہوئی ہے، تاہم آگ پر مکمل قابو پانے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔














