بلوچستان کے ضلع آوران میں ایک حاملہ خاتون کے مبینہ اغوا، تشدد اور قتل کے واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف بیانات میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) پر عائد کی گئی ہے۔
روبینہ نامی خاتون کو 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب ضلع آوران سے طور پر اغوا کیا گیا، جبکہ ان کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی۔
بلوچستان کے ضلع آوران میں ایک حاملہ خاتون کے مبینہ اغوا، تشدد اور قتل کے واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف بیانات میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) پر عائد کی گئی ہے۔@KhUsamaIqbal pic.twitter.com/afPBQ5aWtn
— Media Talk (@mediatalk922) July 27, 2026
مقتولہ کے والد نے کہا کہ ان کی بیٹی کو اکبر ولد غنی نے کالعدم بی ایل ایف کے ارکان کے ساتھ مل کر اغوا کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسلح افراد نے ان کی بیٹی کو کئی روز تک یرغمال رکھا، اس دوران اس پر تشدد کیا اور بعد ازاں اسے قتل کرکے لاش پھینک دی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں خواتین کا استعمال، سیکیورٹی اداروں کا نیٹ ورک پر کاری وار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش بھی ہیں۔ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔














