پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری و سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 40 رکنی وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر سہولت کاری کے باعث پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی کاروباری روابط کو نئی رفتار مل رہی ہے۔
وفد کے دورے کے لیے ایس آئی ایف سی، وزارتِ تجارت اور امریکا میں پاکستانی سفارتخانے نے بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتوں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور پالیسی بریفنگز پر مشتمل جامع پروگرام ترتیب دیا ہے۔
دورے کے دوران امریکی وفد کی وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، ایس آئی ایف سی کے حکام اور دیگر اعلیٰ سرکاری شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں سرمایہ کاری، تجارتی تعاون اور نئے اقتصادی مواقع پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی کاروباری روابط کو نئی رفتار مل رہی ہے
معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور ٹیکنالوجی ماہرین کا40 رکنی وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کا دورہ کرے گا@alihamzaisb @KulAalam pic.twitter.com/zlD63wNHA8— Media Talk (@mediatalk922) July 27, 2026
وفد وزارتِ تجارت، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور دیگر کاروباری و صنعتی اداروں سے بھی ملاقاتیں کرے گا، جبکہ وزارتِ آئی ٹی کے زیر اہتمام پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB)، پاشا، نیشنل انکیوبیشن سینٹر اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کے اشتراک سے آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر خصوصی بریفنگ بھی دی جائے گی۔
مزید پڑھیں:ایس آئی ایف سی اور ای سی سی کا اہم اقدام، ریفائنریز اپ گریڈیشن کی راہیں کھل گئیں
امریکی وفد دفاع، ایرو اسپیس، خلائی ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، صحت، معدنیات اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ وفد کے ارکان مشترکہ منصوبوں، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ٹیلی میڈیسن، معدنیات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ دورہ پاک امریکا اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط کو وسعت دینے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔














