آزاد کشمیر عام انتخابات کا پہلا مرحلہ، میرپورڈویژن کے 13 حلقوں سے نتائج آنا شروع

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا ایک گھنٹہ بڑھایا گیا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے بعد 13 حلقوں سے انتخابی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر میرپور نے میرپور ڈویژن میں ووٹرز کے غیرمعمولی ٹرن آؤٹ کے باعث پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کے اعلان کے مطابق میرپور ڈویژن کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر ووٹروں نے شام 6 بجے تک اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک مقرر کیا گیا تھا، تاہم 5 بجے تک پولنگ اسٹیشن کے اندر یا قطار میں موجود افراد ووٹ کاسٹ کر سکیں گے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر میرپور نے ایک گھنٹے کا اضافہ ٹائم دیا۔

انتخابی عمل کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور پاک فوج کے جوان تعینات کیے گئے ، جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے ۔

میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 437 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں 7 لاکھ 24 ہزار 811 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 626 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

انتخابات کے لیے ڈویژن بھر میں 2316 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ۔ ان میں 1241 انتہائی حساس، 724 حساس جبکہ 351 نارمل پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں، جہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔

میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 288 امیدواروں نے قسمت آزمائی کی۔ سب سے زیادہ امیدوار حلقہ ایل اے 3 میرپور سٹی سے میدان میں ہیں، جہاں 34 امیدوار مدِمقابل ہیں۔

میرپور ڈویژن میں پولنگ پرامن ماحول میں جاری رہی

چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ میرپور ڈویژن میں پولنگ کا آغاز مقررہ وقت کے مطابق صبح 8 بجے ہوا اور اب تک ووٹنگ کا عمل پرامن ماحول میں جاری رہی ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے میرپور ڈویژن کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے گھروں سے باہر نکلیں اور اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات ہی وہ موقع ہوتے ہیں جب عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، اس لیے ووٹرز اپنے ووٹ پر کسی قسم کا سمجھوتا نہ کریں اور بھرپور انداز میں ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیں۔

جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ ووٹرز کی پولنگ اسٹیشنز تک آمدورفت اور انتخابی عمل کے پرامن انعقاد کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر توجہ نہ دیں اور مقررہ وقت کے اندر اپنا ووٹ ضرور کاسٹ کریں، کیونکہ ووٹ کا استعمال ہر شہری کا قانونی اور جمہوری حق اور اہم قومی ذمہ داری ہے۔

سیکیورٹی انتظامات مؤثر، بہترین ٹرن آؤٹ کی توقع، کمشنر میرپور

آزاد کشمیر انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ کا عمل پرامن ماحول میں جاری رہا۔ کمشنر میرپور ڈویژن راجا طاہر ممتاز خان نے میرپور شہر کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرکے انتخابی انتظامات، سیکیورٹی اور عوامی سہولیات کا جائزہ لیا۔

کمشنر نے سیکٹر سی ٹو اور وارڈز 16 اور 17 میں قائم پولنگ اسٹیشنز کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود انتخابی عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہا ہے اور پورے میرپور ڈویژن میں ووٹنگ کا عمل پرامن ماحول میں جاری ہے۔

راجا طاہر ممتاز خان نے کہا کہ میرپور، بھمبر اور کوٹلی سمیت ڈویژن بھر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، جبکہ پولنگ اسٹیشنز اور ان کے اطراف مؤثر سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور انتظامیہ و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں، جبکہ پولنگ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق پولنگ اسٹیشنز پر تعینات سیکیورٹی اہلکار اپنی ذمہ داریاں مستعدی سے انجام دے رہے ہیں۔

کمشنر میرپور ڈویژن نے کہا کہ عوام اطمینان کے ساتھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں اور ووٹرز کی سہولت کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر تمام ضروری انتظامات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی عمل اور انتظامات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

راجا طاہر ممتاز خان نے کہا کہ اب تک میرپور ڈویژن میں پولنگ کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے بہترین ٹرن آؤٹ کی توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صاف، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلاخوف و خطر گھروں سے نکلیں اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں، جبکہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

کشمیر کے عوام بھی پنجاب طرز کی ترقی اور سہولیات کے خواہاں ہیں، عظمیٰ بخاری

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے احتجاج کی کالز مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کیا اور بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز پہنچ کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بڑی تعداد اور لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، جو عوام کی انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی کا مظہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں الزام تراشی کے بجائے اپنی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے منشور کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے ٹھوس کارکردگی اور ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بعض سیاسی مخالفین نے انتخابی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی دھاندلی کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے، حالانکہ انتخابی نتائج کا فیصلہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ترقیاتی وژن کو آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ حکومت بننے کی صورت میں کس نوعیت کے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق پنجاب میں گرین بس، لیپ ٹاپ، اسکالرشپ، اپنا گھر اور نوجوانوں کے لیے فنی تربیت و روزگار کے منصوبوں کو عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام بھی پنجاب طرز کی ترقی اور عوامی سہولیات کے خواہاں ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے اپنی کارکردگی اور منشور پیش کریں اور ووٹ بھی عوامی خدمت اور عملی اقدامات کی بنیاد پر مانگیں، کیونکہ عوام کا فیصلہ ہمیشہ ترقی اور بہتر کارکردگی کے حق میں ہوتا ہے۔

سیاسی جماعتیں ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں، عوام کو آزادانہ حقِ رائے دہی کا موقع ملنا چاہیے، شیری رحمان

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات نہایت حساس نوعیت کے ہیں، جن پر نہ صرف پورے ملک بلکہ عالمی برادری کی بھی نظر ہے، اس لیے انتخابی عمل کو شفاف اور غیر متنازع رکھا جانا چاہیے۔

پارٹی آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم مثبت رہی ہے اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سچائی اور مفاہمت کے کمیشن کے قیام کی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیپلز پارٹی کا تاریخی اور جذباتی تعلق ہے اور پارٹی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکایات الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے بعض عناصر انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایل اے 12 اور ایل اے 13 سمیت بعض حلقوں میں مسلح افراد نے پولنگ کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے گھر سے بیگ برآمد ہونے کے معاملے میں بلاجواز پیپلز پارٹی پر الزامات عائد کیے گئے۔ ان کے مطابق مقامی عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جائے اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے ووٹرز کو پولنگ سے نہ روکا جائے۔

شیری رحمان نے کہا کہ کوٹلی اور نکیال میں بھی انتخابی ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کے تحائف یا مراعات کی تقسیم مناسب نہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو ضابطۂ اخلاق کی پابندی کرنی چاہیے۔

سینیٹر شیری رحمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ عوام کے جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ہر ووٹر آزادانہ طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکے۔

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ جاری ہے، پورے ڈویژن میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک مقرر کیا گیا ہے، تاہم 5 بجے تک پولنگ اسٹیشن کے اندر یا قطار میں موجود افراد ووٹ کاسٹ کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: کون سے سابق وزرائے اعظم اس معرکے کا حصہ ہیں؟

انتخابی عمل کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور پاک فوج کے جوان تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 437 رجسٹرڈ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 7 لاکھ 24 ہزار 811 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 626 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

انتخابات کے لیے ڈویژن بھر میں 2316 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں 1241 انتہائی حساس، 724 حساس جبکہ 351 نارمل پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں، جہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 288 امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ امیدوار حلقہ ایل اے 3 میرپور سٹی سے میدان میں ہیں، جہاں 34 امیدوار مدِمقابل ہیں۔

ایل اے 10 کوٹلی میں 29، ایل اے 7 بھمبر میں 28، ایل اے 13 کھوئیرٹہ میں 27، جبکہ ایل اے 2 چکسواری اور ایل اے 11 سہنسہ میں 24، 24 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی طرح ایل اے 8 راج محل سے 21، ایل اے ایک ڈڈیال سے 20، ایل اے 4 کھڑی شریف سے 19، ایل اے 5 برنالہ سے 18، ایل اے 6 سماہنی سے 17، ایل اے 12 چڑھوئی سے 15 جبکہ ایل اے 9 فتح پور تھکیالہ سے 12 امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

کون کس کے مدمقابل ہے؟

ایل اے ایک ڈڈیال میں گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے اظہر صادق اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری افسر شاہد سے ہے۔

ایل اے 2 چک سواری میرپور میں سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کے فرزند چوہدری قاسم مجید کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر عظیم بخش چوہدری سے ہے۔

سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کے فرزند چوہدری قاسم مجید 2021 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 10 ہزار 377 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔

ایل اے 3 میرپور سٹی کا حلقہ ہمیشہ سے نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے، یہاں سے 2021 کے الیکشن میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 18 ہزار 703 ووٹ لے کر میدان مارا، جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری محمد سعید 15 ہزار 556 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

اس بار یہاں سے بیرسٹر سلطان محمود (مرحوم) کے فرزند چوہدری یاسر سلطان (پی پی پی) کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری سعید سے ہے اور کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ چوہدری سعید نے 2016 کے انتخابات میں اس وقت کے صدر پی ٹی آئی بیرسٹر سلطان کو شکست دی تھی۔

ایل اے 4 میرپور کھڑی شریف میں چوہدری رخسار مسلم لیگ ن کے مضبوط امیدوار ہیں، جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار صہیب ارشد سے ہے۔

چوہدری محمد ارشد، جو صہیب ارشد کے والد ہیں، 2021 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 22 ہزار 768 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری رخسار نے 20 ہزار 984 ووٹ لیے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

بھمبر کے حلقہ ایک ایل اے 5 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر کرنل (ر) وقار نور مضبوط امیدوار ہیں، جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری پرویز اشرف سے ہے۔

ایل اے 5 ضلع بھمبر میں حلقہ ایک سے 2021 کا الیکشن مسلم لیگ ن کے امیدوار کرنل (ر) وقار احمد نور نے جیتا جنہوں نے 21 ہزار 799 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری پرویز اشرف 15 ہزار 583 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

ضلع بھمبر کے حلقہ 2 ایل اے 6 سماہنی میں استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار علی شان سونی اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر محمد رزاق چوہدری کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے۔

2021 کے الیکشن میں علی شان سونی نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 24 ہزار 946 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ آزاد امیدوار محمد رزاق چوہدری 16640 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

ضلع بھمبر کے حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری طارق فاروق کا مقابلہ سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق سے ہے، یہاں سے چوہدری طارق فاروق کی پوزیشن مستحکم ہے۔

2021 کے الیکشن میں چوہدری انوارالحق نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 38 ہزار 308 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری طارق فاروق 32 ہزار 245 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

ضلع کوٹلی کے حلقہ ایک راج محل میں مسلم لیگ ن اور آئی پی پی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، مسلم لیگ ن نے اس حلقے سے سینیئر سیاستدان ملک نواز کو ٹکٹ جاری کیا ہے، جس کے بعد مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک ذوالفقار نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے، اور عقاب کے نشان پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

گزشتہ الیکشن میں ضلع کوٹلی کے حلقہ ایک ایل اے 8 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ظفر اقبال ملک نے 17 ہزار 299 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ریاستی جماعت مسلم کانفرنس کے امیدوار ملک نواز 12 ہزار 107 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے تھے، جو بعد ازاں مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے امیدوار ذوالفقار علی ملک کو گزشتہ الیکشن میں 7598 ووٹ ملے اور وہ تیسرے نمبر پر رہے۔

گزشتہ الیکشن میں یہاں سے کامیابی حاصل کرنے والے ملک ظفر اب پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

کوٹلی کے حلقہ 2 ایل اے 9 میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے، یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار جاوید بڈھانوی نے گزشتہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی، جن کا مقابلہ ن لیگ کے سردار عمیر نعیم سے ہے۔

کوٹلی کا حلقہ 3 ایل اے 10 سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری یاسین نے 9 ہزار 696 ووٹ لے کر میدان مارا جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار ملک یوسف کو 9507 ووٹ ملے تھے۔

اس مرتبہ یہاں سے مسلم لیگ ن نے یوتھ رہنما فاتح محمود کیانی کو ٹکٹ جاری کیا ہے، جن کا مقابلہ صدر پیپلز پارٹی چوہدری یاسین سے ہے اور یہاں بھی کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

ضلع کوٹلی کے حلقہ چار ایل اے 11 میں بھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے امیدوار مدمقابل ہیں، پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری اخلاق کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے امیدوار راجا آصف سے ہے، اور یہاں بھی کانٹے دار مقابلے کا امکان ہے۔

کوٹلی کے حلقہ پانچ ایل اے 12 چڑہوئی سے گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری یاسین نے 21 ہزار 527 ووٹ لے کر میدان مارا، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار راجا ریاست 20081 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، اس مرتبہ بھی انہی دو امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

کوٹلی کے حلقہ 6 ایل اے 13 میں بھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے امیدوار مدمقابل ہیں، ن لیگ نے یہاں سے سینیئر مسلم لیگی رہنما راجا نثار کے بیٹے راجا ایاز نثار کو ٹکٹ جاری کیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ولید انقلابی ہیں۔

2021 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر نثار انصر ابدالی نے 23 ہزار 340 ووٹ لے کر یہاں سے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ولید انقلابی 17 ہزار 554 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

اب نثار انصر ابدالی یہاں سے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار ہیں، جو اپ سیٹ بھی کر سکتے ہیں۔

انتخابی عمل کی نگرانی اور سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پورے میرپور ڈویژن کو 13 زونز اور 205 سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں انتظامی اور سیکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر فرائض انجام دیں گے۔

سیکیورٹی پلان کے تحت میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 18 ہزار 560 اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں ضلع میرپور کے لیے 5536، ضلع بھمبر کے لیے 4504 اور ضلع کوٹلی کے لیے 8520 اہلکار شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کے فیصلے سے سیاسی منظر نامہ تبدیل، کس جماعت کو فائدہ ہوگا؟

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق انتخابات کے لیے تین سطحی سیکیورٹی نظام وضع کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں آزاد کشمیر پولیس، دوسرے مرحلے میں پاکستان رینجرز (پنجاب)، پاکستان رینجرز (سندھ) اور فیڈرل کانسٹیبلری جبکہ تیسرے مرحلے میں پاک فوج کے 2100 جوان انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

حکام کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشنز، حساس مقامات اور انتخابی حلقوں میں جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے تاکہ ووٹرز کو محفوظ ماحول میں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے اور انتخابی عمل پرامن، منظم اور شفاف انداز میں مکمل ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp