بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کیس، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئینی عدالت میں جواب جمع کرا دیا

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے مبینہ فورس کے قیام سے متعلق دائر آئینی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت میں اپنا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل کے توسط سے جمع کرائے گئے 8 صفحات پر مشتمل جواب میں درخواست کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

آئینی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں وزیراعلیٰ کے پی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی رہائی فورس‘ کے نام سے کوئی بھی تنظیم کبھی قائم ہی نہیں ہوئی۔ اصل اقدام ’بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے، جو مکمل طور پر پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ ہے۔ تحریک میں کسی بھی قسم کا مسلح ڈھانچہ یا نجی ملیشیا شامل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت میں عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کیخلاف سماعت، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ آئینی درخواست غلط بیانی، فرضی مفروضوں اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، جبکہ درخواست گزار آئین کے تحت اپنے کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

آئینی اور قانونی نکات

وزیر اعلیٰ کے جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 16 (پُرامن اجتماع کا حق)، آرٹیکل 17 (تنظیم سازی کی آزادی) اور آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے کی آزادی) کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل 256 (نجی ملیشیا کی ممانعت) کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا، اور نہ ہی پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء کے تحت اس پر کوئی پابندی لگتی ہے۔

اس پرامن تحریک کا ماضی کی مسلح تنظیموں سے موازنہ کرنا انتہائی گمراہ کن اور بے بنیاد ہے، جبکہ امن عامہ کو خطرات سے متعلق تمام الزامات بلا جواز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ‘منظم عوامی جدوجہد ناگریز ہوچکی ہے،’ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا عمران خان رہائی فورس بنانے کا اعلان

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کیا جائے اور ’بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک‘ کو مکمل طور پر آئینی و قانونی قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ سے جواب طلب کر رکھا تھا اور بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے خلاف دائر آئینی درخواست کو 29 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا