امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں سے جاری حملوں کے بعد ہفتے کے آخر میں فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے اور سفارتی کوششوں کے امکانات بڑھنے پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز 6 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ خام تیل کے سودے 6.20 ڈالر یا 6.4 فیصد کمی کے بعد 90.58 ڈالر فی بیرل تک آ گئے، جبکہ کاروبار کے دوران یہ مختصر وقت کے لیے 90 ڈالر کی اہم سطح سے بھی نیچے چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 5.80 ڈالر یعنی 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 83.51 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دونوں بینچ مارک خام تیل گزشتہ تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئے، حالانکہ اس سے قبل مسلسل 3 ہفتوں تک ان کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
Oil prices fall as Iran and US pause strikes over Strait of Hormuz tensions https://t.co/40D6TdvQd9
— Middle East & Africa (@FTMidEastAfrica) July 26, 2026
گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی، جبکہ تنازع بحیرہ احمر تک پھیلنے سے سعودی عرب کی ایشیا کو باب المندب کے راستے تیل برآمدات بھی متاثر ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے ایران کے خلاف امریکی حملوں میں عارضی وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ امریکا اور ایران کی جانب سے مزید فوجی کارروائی سے گریز نے کشیدگی میں کمی کے واضح آثار پیدا کیے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ ان کے مطابق مارکیٹ کسی بھی مثبت پیش رفت کی شدت سے منتظر تھی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں بے چینی برقرار، خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی
تاہم شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کپلر کے مطابق حملوں میں وقفے کے باوجود ہفتے کے آخر میں روزانہ 10 سے بھی کم تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحری آمدورفت ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔
ایم ایس ٹی مارکی کے تجزیہ کار ساؤل کاوونک کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کی بحالی سست رفتار اور جزوی رہنے کا امکان ہے، کیونکہ شپنگ کمپنیاں سیکیورٹی صورتحال پر مکمل اعتماد ہونے تک محتاط رہیں گی۔
Oil prices fall as US and Iran halt military strikes, raising hopes for renewed diplomacy despite lingering risks to shipping through Strait of Hormuz. Here's more 👇 pic.twitter.com/exAYgAE6s6
— TRT World Now (@TRTWorldNow) July 27, 2026
ادھر اتوار کے روز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحل پر سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی کم رہی، اگرچہ ایک تیسرا چینی سپر ٹینکر اس راستے سے گزرنے میں کامیاب رہا۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں بحری راستوں کو لاحق خطرات برقرار رہے اور روس یوکرین جنگ کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بلند ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، آبنائے ہرمز کشیدگی اور ایران امریکا تنازع برقرار
یو او بی کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی بحیرہ احمر تک پھیلتی رہی اور یوکرین کی جانب سے روسی بحری جہازوں اور آئل ریفائنریوں پر حملے جاری رہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہ سکتی ہے، جس سے نہ صرف تیل مہنگا رہے گا بلکہ عالمی مہنگائی پر بھی دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
یوکرین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہفتے کے آخر میں روس کی متعدد آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔













