مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول (LoC) کے قریب اُڑی سیکٹر میں ایک بارودی سرنگ (لینڈ مائن) کے شدید دھماکے کے نتیجے میں بھارتی فوج کے 2 اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد فوجی اہلکاروں نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس (KMS) اور مقامی ذرائع کے مطابق، یہ دھماکا اُڑی کے علاقے کمال کوٹ میں واقع ‘اپر گڑھ’ فارورڈ پوسٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب بھارتی فوج کی 8 راشٹریہ رائفلز (RR) جو کہ 12 بریگیڈ کے تحت تعینات ہے، کے اہلکار اپنی معمول کے گشت (پیٹرولنگ) پر تھے، اسی دوران ان کا قدم زمین میں دبی ہوئی بارودی سرنگ پر آ گیا۔
دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے اہلکاروں کی شناخت 42 سالہ وجے کمار اور 28 سالہ شرناپا انگاری کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق 8 راشٹریہ رائفلز سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ جموں و کشمیر: بھارتی فوج کی گاڑی پر حملہ، 10 اہلکار ہلاک، 7 زخمی
واقعے کے فوراً بعد جائے وقوعہ پر موجود دیگر اہلکاروں نے دونوں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری طور پر سرینگر کے بادامی باغ کینٹ میں واقع فوج کے مرکزی ’92 بیس ہسپتال’ منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
بھارتی عسکری حکام کی جانب سے واقعے کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ پرانی دبی ہوئی بارودی سرنگ کا حادثاتی دھماکا تھا یا کوئی تازہ کارروائی۔ تاہم، واقعے کے بعد کمال کوٹ اور گرد و نواح کی فارورڈ پوسٹوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ و سیکیورٹی ادارے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا مزاحمت کاروں کے خلاف 12 روزہ طویل آپریشن ناکام، 9 فوجی ہلاک
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ایل او سی کے قریبی اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سرحد پار سے دراندازی روکنے کے نام پر بھارتی فوج کی جانب سے وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔
موسم کی تبدیلی، بارشوں، اور برف پگھلنے یا زمین کھسکنے (Landslides) کے باعث یہ بارودی سرنگیں اکثر اپنی جگہ سے سرک جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ڈیوٹی پر مامور بھارتی فوجیوں کے اپنے ہی بچھائے ہوئے ان لینڈ مائنز کا شکار ہونے کے واقعات پہلے بھی کئی بار پیش آ چکے ہیں۔













