بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع باگلکوٹ کے گاؤں ‘گلاگالی’ میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک سفاک شوہر نے ناجائز تعلقات کے مبینہ شبے میں اپنی 23 سالہ بیوی کو بے رحمی سے قتل کر دیا اور آخری سانسیں لیتی بیوی کے مناظر ویڈیو کال کے ذریعے اس کے والدین کو دکھا دیے۔
پولیس کے مطابق ملزم پروین جگلور (پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور) کا اپنی بیوی 23 سالہ بھاگیاشری سے کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ ملزم نے پہلے اپنی بیوی کو لکڑی کے موٹے ڈنڈے سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسے گھر کے اندر ہی پھندا دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: بیٹی کو قتل کرکے خود کشی کا رنگ دینے والا باپ گرفتار
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جب خاتون پھندے پر جھولتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لیے بستر پر پاؤں ٹکانے کی جدوجہد کر رہی تھی، ملزم نے نہ صرف اس منظر کی ویڈیو ریکارڈ کی بلکہ ویڈیو کال کے ذریعے مقتولہ کے والدین کو ان کی بیٹی کی بے بسی اور تڑپتے ہوئے آخری لمحات دکھائے۔ بعد ازاں ملزم نے یہ خوفناک ویڈیو اپنے دوستوں اور سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر دی۔
منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو اور پس منظر
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتولہ سبز دوپٹے کے سہارے لٹکی ہوئی ہے جبکہ پس منظر میں بیڈروم کی دیوار پر دونوں میاں بیوی کے نام بھی درج ہیں۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ بھاگیاشری اور پروین کی شادی 2020 میں ہوئی تھی اور ان کا ایک 3 سالہ بیٹا بھی ہے۔ مسلسل گھریلو ناچاکی اور شک کی بنیاد پر بھاگیاشری 2 ماہ سے اپنے میکے میں مقیم تھی۔ ملزم پروین نے اسے آئندہ پرامن زندگی گزارنے کی یقین دہانی کرا کر گھر واپس بلایا، لیکن گھر واپسی کے چند ہی گھنٹوں بعد اس نے اس سنگین جرم کا ارتکاب کر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں دل دہلا دینے والا واقعہ، شوہر نے بیوی کو قتل کرکے 2 سالہ بیٹے کو جنگل میں چھوڑ دیا
اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے اور جائے وقوعہ سے خون کے نمونے و دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے اس کا موبائل فون بھی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک معائنہ کرایا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم و فرانزک رپورٹ کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔














