سندھ حکومت کی ترجمان اور رکن سندھ اسمبلی سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ ان کے صوبے کے وزیراعلٰی سید مراد علی شاہ زمینی سطح پر بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ میں بہت اچھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ’مریم نواز اسپورٹس سٹی‘ کے منصوبے میں پیشرفت، عالمی معیار کی سہولیات ایک ہی مقام پر
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور اور کراچی کا موازنہ مناسب نہیں ہے کیونکہ کراچی منی پاکستان ہے جو ملک بھر کے لوگوں کو اپنے اندر سموتا ہے جبکہ پنجاب میں شریف خاندان صرف لاہور کی ترقی پر ہی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔
سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ دونوں شہروں کا حجم اور انتظامی نوعیت مختلف ہے، لاہور پنجاب کا پورا عکس نہیں جبکہ کراچی ایک بہت بڑا اور متنوع شہر ہے۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر کی وجوہات
کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجہ یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی، نگراں حکومت کے دوران کام کی بندش اور لاگت میں اضافہ تھا۔
مزید پڑھیے: ’غریب اور امیر کے بچے یکساں مواقع کے حقدار ہیں‘، مریم نواز کا سرکاری تعلیم کے معیار میں بڑی تبدیلی کا اعلان
سعدیہ جاوید نے دعویٰ کیا کہ منصوبے سے ملحق سڑکوں کی تعمیر کا کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
’کراچی کو پانی کی مطلوبہ مقدار کا محض نصف ہی دستیاب ہے‘
پانی کی قلت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کو یومیہ تقریباً 1200 ایم جی ڈی پانی درکار ہے جبکہ اس وقت شہر کو تقریباً نصف مقدار ہی دستیاب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حب کینال سے پانی کی فراہمی بڑھانے اور کے 4 منصوبے کی تکمیل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ مستقبل میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس لگانے پر بھی غور ہو رہا ہے۔
’ہاؤسنگ اسکیم، طبی سہولیات اور کوئلہ و ونڈ کوریڈورز سندھ حکومت کے بڑے کارنامے ہیں‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں دنیا کی سب سے بڑی ہاؤسنگ اسکیم، صحت کے شعبے میں بہتر طبی سہولیات اور توانائی کے منصوبوں، خصوصاً تھر کول اور ونڈ کوریڈور، کو اپنی اہم کامیابیوں کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرے گی۔
’ن لیگ اور پی پی کا باہمی تعاون وقت کی ضرورت ہے، محاذ آرائی نے نقصان ہی پہنچایا‘
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے نظریات اور سیاسی انداز مختلف ہیں تاہم ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور سیاسی استحکام کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں دونوں جماعتوں کی محاذ آرائی سے تیسری قوت کو فائدہ پہنچا اس لیے موجودہ حالات میں قومی مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
’ایم کیو ایم اپنی کارکردی کا بھی جائزہ لے‘
ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی اور سندھ کی گورننس پر تنقید کے جواب میں سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جماعت نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی حامی ہے تو آئینی طریقہ اختیار کرے اور پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم خود طویل عرصے تک وفاقی حکومتوں کا حصہ رہی ہے اس لیے اسے اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
سعدیہ جاوید نے پیپلز پارٹی کا انتخاب کیوں کیا؟
پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے بتایا کہ ان کا پورا خاندان مسلم لیگ (ن) میں تھا تاہم انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ ان کے نزدیک خواتین کو سیاسی طور پر آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع اسی جماعت میں میسر تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ان کے سیاسی سفر کی سب سے بڑی تحریک تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد مسلم لیگ (ن) کی سیاست سے وابستہ تھے تاہم انہیں محسوس ہوا کہ اس جماعت میں خواتین کو ان کی صلاحیت اور محنت کے مطابق مقام نہیں ملتا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کو بہتر سیاسی مواقع فراہم کرتی ہے اس لیے انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو جب بینظیر بھٹو جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئیں تو وہ خود بھی اسی طیارے میں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو میں ایسی کشش اور جرات تھی جو ہر خاتون کو عملی سیاست میں آنے کی ترغیب دیتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کی شہادت کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا اور آج بھی وہ محسوس کرتی ہیں کہ پاکستانی سیاست میں ان کی کمی پوری نہیں ہو سکی۔
موروثی سیاست کے نقادوں سے سعدیہ جاوید کا سوال
موروثی سیاست کے ’ایشو‘ پر گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے سوال کیا کہ اگر ڈاکٹر کی اولاد ڈاکٹر اور انجینیئر کی انجینیئر بن سکتی ہے تو پھر سیاست دانوں کی اولاد سیاست دان کیوں نہیں بن سکتی؟ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست دان کی اولاد کے سیاست میں آنے کو طعنہ زنی کے طور پر ’موروثی سیاست‘ کہنا درست نہیں۔












