انسانی آنتوں کی نقل تیار کرنے والی چِپ سے مائیکروبز کے کردار پر نئی تحقیق

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں نے انسانی آنتوں میں موجود مفید اور نقصان دہ جراثیم یعنی مائیکروبزاور انسانی جسم کے درمیان پیچیدہ تعلق کو سمجھنے کے لیے ’آرگن آن اے چِپ نامی جدید ٹیکنالوجی کو طبی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جس سے آنتوں کی سوزش، کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

موناش یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر امین ولیئی کے مطابق صحت اور بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مختلف جرثومے ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں، غذائی اجزا کا تبادلہ کیسے کرتے ہیں اور انسانی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرلیا

روایتی لیبارٹری ماڈلز اور جانوروں پر کیے جانے والے تجربات انسانی آنتوں کی پیچیدہ ساخت اور ماحول کی مکمل نقل پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جبکہ آرگن آن اے چِپ ٹیکنالوجی انسانی آنتوں کے حقیقی ماحول، سیال کے بہاؤ، آکسیجن کی مختلف سطحوں، مدافعتی خلیات اور جرثوموں کو ایک ہی نظام میں برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے وائس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈونلڈ انگبر کے مطابق ان کی ٹیم اس ٹیکنالوجی کی مدد سے 5 دن سے زائد عرصے تک انسانی آنتوں کے خلیات کے ساتھ 200 سے زیادہ اقسام کے جرثوموں کو کامیابی سے زندہ رکھنے میں کامیاب رہی، جو روایتی آرگینائڈ ماڈلز میں ممکن نہیں۔

محققین نے اسی ٹیکنالوجی کو انفلامیٹری باؤل ڈیزیز کی تحقیق میں بھی استعمال کیا, مریضوں سے حاصل کردہ خلیات پر مشتمل چِپس سے معلوم ہوا کہ صرف مدافعتی خلیات ہی نہیں بلکہ آنتوں کے معاون بافتی خلیات یعنی اسٹرومل فائبر و بلاسٹس بھی بیماری کی شدت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے مستقبل میں نئی اقسام کی ادویات تیار کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ آئی بی ڈی کے مریضوں کے خلیات میں ابتدائی سرطان پیدا ہونے کے امکانات نسبتاً زیادہ تھے، جبکہ خواتین کے خلیات میں حمل کے دوران پیدا ہونے والے ہارمونز سوزش اور بافتوں کی سختی میں اضافہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مائیکرو فلوئیڈکس، کمپیوٹر ماڈلنگ، مصنوعی ذہانت اور ملٹی اومکس ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے نہ صرف بیماریوں کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا بلکہ ہر مریض کے لیے زیادہ مؤثر اور ذاتی نوعیت کے علاج بھی تیار کیے جا سکیں گے، اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر اور معیاری بنانے کے لیے ابھی کئی سائنسی چیلنجز باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینما کے بعد ’میرا لیاری‘ ٹی وی اسکرین پر، فلم کب نشر ہوگی؟

غزہ جنگ: مصنوعی ذہانت کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے اسرائیل کی  کروڑوں ڈالرز کی خفیہ مہم کا انکشاف

کنگنا رناوت کی کاکروچ پارٹی رہنما کے خلاف نازیبا زبان، ترجمان سی جے پی کا کرارا جواب

سینیٹ میں قانون سازی بڑھی مگر حاضری، نمائندگی اور پارلیمانی نگرانی پر سوالات برقرار، پلڈاٹ

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

ویڈیو

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

اہلِ کشمیر پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ن لیگ کی جیت یقینی، ثاقب مجید راجا نے ایکشن کمیٹی کو ’فتنہ و فساد کمیٹی‘ قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں