سائنس دانوں نے انسانی آنتوں میں موجود مفید اور نقصان دہ جراثیم یعنی مائیکروبزاور انسانی جسم کے درمیان پیچیدہ تعلق کو سمجھنے کے لیے ’آرگن آن اے چِپ‘ نامی جدید ٹیکنالوجی کو طبی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جس سے آنتوں کی سوزش، کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
موناش یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر امین ولیئی کے مطابق صحت اور بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مختلف جرثومے ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں، غذائی اجزا کا تبادلہ کیسے کرتے ہیں اور انسانی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرلیا
روایتی لیبارٹری ماڈلز اور جانوروں پر کیے جانے والے تجربات انسانی آنتوں کی پیچیدہ ساخت اور ماحول کی مکمل نقل پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جبکہ آرگن آن اے چِپ ٹیکنالوجی انسانی آنتوں کے حقیقی ماحول، سیال کے بہاؤ، آکسیجن کی مختلف سطحوں، مدافعتی خلیات اور جرثوموں کو ایک ہی نظام میں برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
🚨 The Tiny Chip That Could Change Gut Health Forever
What if a tiny chip could reveal the hidden secrets inside your gut?
Scientists have created a "gut-on-a-chip" that works like a miniature human intestine. It helps researchers watch diseases develop and test new treatments… pic.twitter.com/tck8FL2BAC
— SciTech Girl (@scitechgirl) July 27, 2026
ہارورڈ یونیورسٹی کے وائس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈونلڈ انگبر کے مطابق ان کی ٹیم اس ٹیکنالوجی کی مدد سے 5 دن سے زائد عرصے تک انسانی آنتوں کے خلیات کے ساتھ 200 سے زیادہ اقسام کے جرثوموں کو کامیابی سے زندہ رکھنے میں کامیاب رہی، جو روایتی آرگینائڈ ماڈلز میں ممکن نہیں۔
محققین نے اسی ٹیکنالوجی کو انفلامیٹری باؤل ڈیزیز کی تحقیق میں بھی استعمال کیا, مریضوں سے حاصل کردہ خلیات پر مشتمل چِپس سے معلوم ہوا کہ صرف مدافعتی خلیات ہی نہیں بلکہ آنتوں کے معاون بافتی خلیات یعنی اسٹرومل فائبر و بلاسٹس بھی بیماری کی شدت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے مستقبل میں نئی اقسام کی ادویات تیار کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟
تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ آئی بی ڈی کے مریضوں کے خلیات میں ابتدائی سرطان پیدا ہونے کے امکانات نسبتاً زیادہ تھے، جبکہ خواتین کے خلیات میں حمل کے دوران پیدا ہونے والے ہارمونز سوزش اور بافتوں کی سختی میں اضافہ کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مائیکرو فلوئیڈکس، کمپیوٹر ماڈلنگ، مصنوعی ذہانت اور ملٹی اومکس ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے نہ صرف بیماریوں کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا بلکہ ہر مریض کے لیے زیادہ مؤثر اور ذاتی نوعیت کے علاج بھی تیار کیے جا سکیں گے، اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر اور معیاری بنانے کے لیے ابھی کئی سائنسی چیلنجز باقی ہیں۔













