اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت  یا اے آئی کی دنیا میں اس ہفتے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے سائبر سیکیورٹی ماہرین، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عام صارفین کو حیران کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا

ابتدا میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایک طاقتور ہیکنگ سسٹم نے معروف اے آئی پلیٹ فارم ہگنگ فیس پر حملہ کر کے ہزاروں کارروائیاں انجام دیں لیکن چند دن بعد اس واقعے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب انکشاف ہوا کہ اس حملے کے پیچھے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کے جدید ماڈلز تھے۔

واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ مصنوعی ذہانت کے خطرناک مستقبل کی ایک سنگین وارننگ ہے یا پھر اپنی ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں دکھانے کے لیے کیا گیا ایک تشہیری حربہ۔

ابتدا کیسے ہوئی؟

16 جولائی کو اے آئی پلیٹ فارم ہگنگ فیس نے اعلان کیا کہ اس کے سسٹمز کو ایک غیر معمولی سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق حملہ روایتی ہیکرز کی طرح نہیں تھا بلکہ ایک انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت نے تقریباً بغیر انسانی رہنمائی کے غیرمعمولی رفتار سے کارروائیاں انجام دیں۔

ہگنگ فیس نے بتایا کہ حملہ آور اے آئی نے صرف دو دن سے بھی کم وقت میں 17 ہزار سے زیادہ کارروائیاں انجام دیں اور کمپنی کے سسٹمز میں داخل ہو کر حساس معلومات تک رسائی حاصل کر لی۔

مزید پڑھیے: کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

کمپنی نے اس واقعے کی وضاحت میں کئی تکنیکی اصطلاحات استعمال کیں جن میں ایجنٹک اٹیکر (خودمختار انداز میں فیصلے کرنے والا اے آئی حملہ آور)، سوارم آف سینڈ باکسز (متعدد محفوظ آزمائشی ماحول) اور سیلف مائیگریٹنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول (خود بخود ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والا کنٹرول سسٹم) شامل تھیں جس کے باعث ٹیکنالوجی کی دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

حملہ آور کون تھا؟

ابتدائی طور پر ہگنگ فیس کے محققین کا خیال تھا کہ حملہ کسی بڑی ریاست، سائبر جرائم پیشہ گروہ یا کسی جدید اے آئی ماڈل کے ذریعے کیا گیا ہوگا تاہم انہیں حملہ آور کی شناخت معلوم نہیں تھی۔

بعد ازاں کمپنی نے پولیس سے بھی رابطہ کیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

حیران کن انکشاف

تقریباً ایک ہفتے بعد بدھ کے روز اوپن اے آئی نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے کے پیچھے دراصل چیٹ جی پی ٹی کے نئے تجرباتی ماڈلز تھے۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب کمپنی اپنے اے آئی ماڈلز کی ہیکنگ صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک سیکیورٹی ٹیسٹ کر رہی تھی۔

مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کے خودکار اے آئی ایجنٹ کی مبینہ ہیکنگ، کمپنی کو ایک ہفتے بعد علم ہوا

کمپنی نے بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی کے 2 نئے ماڈلز جنہیں اعلیٰ درجے کی سائبر سیکیورٹی مہارتوں کی جانچ کے لیے تیار کیا گیا تھا ٹیسٹنگ کے لیے قائم کیے گئے محفوظ ماحول (سینڈ باکس) سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس کے بعد ان ماڈلز نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور ہگنگ فیس پر حملہ کر کے ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جو ان کے جاری ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کے لیے مفید ثابت ہو سکتی تھیں۔

اوپن اے آئی نے کہا کہ یہ تمام کارروائی انسانی اجازت کے بغیر خودکار انداز میں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کا نیا ماڈل کیمی کے 3‘ لانچنگ کے لیے تیار، خاص بات کیا ہے؟

کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ہگنگ فیس کے ساتھ مل کر واقعے کی مکمل تحقیقات اور سیکیورٹی میں بہتری پر کام کر رہی ہے۔

تشویش یا تشہیر؟

اس واقعے کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا دو مختلف آرا میں تقسیم ہو گئی۔

ایک حلقے کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مستقبل کے خطرات کی ایک واضح وارننگ ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز اب خود مختار انداز میں انتہائی پیچیدہ سائبر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب متعدد تجزیہ کاروں اور صارفین نے اسے محض اوپن اے آئی کی تشہیری مہم قرار دیا۔

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کی سوشل میڈیا پوسٹ کے نیچے ایک مقبول تبصرے میں لکھا گیا کہ اگر لوگ یہ نہیں سمجھ رہے کہ یہ پوری کہانی صرف اے آئی ماڈل کی طاقت دکھانے کے لیے لکھی گئی ہے تو پھر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: کوئی ایک اے آئی ماڈل تمام سیکیورٹی خامیاں نہیں پکڑ سکتا، نئی تحقیق

سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ڈینیئل کارڈ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کی لاکھوں ویب سائٹس میں سے اوپن اے آئی نے اسی کمپنی کو نشانہ بنایا جسے اس واقعے سے تشہیری فائدہ بھی مل سکتا تھا۔

اوپن اے آئی پر تنقید

دوسری جانب متعدد سیکیورٹی ماہرین نے اوپن اے آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی ایسے اے آئی ماڈلز تیار کر رہی تھی جنہیں خاص طور پر ہیکنگ کی تربیت دی گئی تھی تو انہیں زیادہ محفوظ ماحول میں محدود رکھا جانا چاہیے تھا۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی پلر سیکیورٹی  کے ڈور ساریگ  نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف سینڈ باکس جیسے حفاظتی نظام مستقبل کے خودمختار اے آئی ایجنٹس کو روکنے کے لیے کافی نہیں رہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے سائبر سیکیورٹی پروفیسر ایلن ووڈورڈ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد اوپن اے آئی کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی طرح لوٹا سیکیورٹی کی بانی کیٹی موسوریس نے کہا کہ اے آئی انڈسٹری ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جسے محفوظ طریقے سے قابو میں رکھنے کی صلاحیت ابھی تک موجود نہیں۔

ان کے مطابق صرف ذہین انجینیئرز کا ہونا کافی نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لیے مؤثر حفاظتی نظام بھی ضروری ہیں۔

اوپن اے آئی کا مؤقف

اوپن اے آئی کے ترجمان نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق متعدد سوالات اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔

کمپنی نے بتایا کہ آنے والے ہفتوں میں ایک مکمل تکنیکی رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں واقعے کی تفصیلات، اسباب اور حاصل ہونے والے تجربات بیان کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی کل اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈل ’جی پی ٹی 5.6‘ متعارف کرائے گی

ماہرین کے مطابق اس واقعے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ چیٹ جی پی ٹی کے ان تجرباتی ماڈلز کو ہیکنگ اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت جانچنے کے لیے ایک مخصوص مقصد دیا گیا تھا۔ مصنوعی ذہانت کے جدید ’ایجنٹک‘ ماڈلز بعض اوقات اپنے مقررہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خود ہی نئے راستے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اگر حفاظتی حدود یعنی سینڈ باکس کمزور ہوں تو وہ ان ہی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مقررہ حدود سے باہر نکلنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معلومات کے مطابق ایسا نہیں لگتا کہ ان ماڈلز نے شعوری طور پر بغاوت یا انسانوں کے خلاف کارروائی کی بلکہ انہوں نے اپنے دیے گئے ہدف کو پورا کرنے کے لیے وہ اقدامات کیے جنہیں انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو مصنوعی ذہانت کی بدنیتی نہیں بلکہ حفاظتی نظام، نگرانی اور کنٹرول کے طریقہ کار میں موجود کمزوریوں کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے جس سے مستقبل میں زیادہ مضبوط حفاظتی انتظامات کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

کیا مستقبل میں خطرات بڑھ سکتے ہیں؟

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت پہلے ہی سائبر سیکیورٹی اور جنگی ٹیکنالوجی میں تیزی سے استعمال ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی اے آئی ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ صارفین کا خفیہ ڈیٹا چرا رہا ہے، چین نے سنگین الزام عائد کردیا

حال ہی میں برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ جدید اے آئی ماڈلز اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات غیر متوقع یا غیر مجاز طریقے اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسے ماڈلز کو حساس شعبوں میں استعمال کیا گیا تو وہ نقصان دہ نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

تاہم برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے سابق سربراہ سیاران مارٹن نے نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو یہ سمجھ لینا قبل از وقت ہوگا کہ اے آئی اب مکمل طور پر قابو سے باہر ہو کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دے گی۔

مزید پڑھیے: گوگل کو بڑا جھٹکا، اے آئی ماہر کی اوپن اے آئی میں شمولیت سے ٹیک دنیا میں ہلچل

البتہ ان کے مطابق ایک بات اب واضح ہو چکی ہے کہ جدید اے آئی ایجنٹس بہت تیزی سے انتہائی مہارت رکھنے والے ہیکرز میں تبدیل ہو رہے ہیں اور دنیا کو اس حقیقت کے لیے فوری طور پر تیار ہونے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پرشدید ردعمل، مشاہد حسین، طلعت حسین اور خواجہ آصف کی کڑی تنقید

شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنرل عامر رضا نے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی کمان سنبھال لی، گارڈ آف آنر پیش

ویڈیو

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کا واقعہ، 2 سگے بھائیوں سمیت 4 پاکستانی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان