سابق بس ڈرائیور کے گھر چھاپہ، ساڑھے 5 کروڑ روپے نقد اور 15 کلو سونا برآمد

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع بیربھوم میں پولیس کی کارروائی کے دوران ایک سابق بس ڈرائیور کے گھر سے بڑی مقدار میں نقد رقم، سونے کی اینٹیں اور کرنسی گننے والی مشینیں برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق منگل کی رات دیر گئے شروع ہونے والی کارروائی بدھ کی شام تک جاری رہی، جہاں ایک بظاہر عام نظر آنے والی 2 منزلہ عمارت اچانک توجہ کا مرکز بن گئی۔

پولیس کے مطابق ضلع بیربھوم کے علاقے محمد بازار میں منار مونڈل نامی شخص کے گھر چھاپے کے دوران اب تک 5 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد نقد رقم اور 15 کلو سونا برآمد کیا گیا ہے، جبکہ رقم کی گنتی کا عمل جاری تھا۔

یہ بھی پڑھیے کینیڈا کی سب سے بڑی گولڈ ڈکیتی کا بھارت سے کیا تعلق ہے؟

منار مونڈل، پتھر کے کاروبار سے وابستہ بتایا جاتا ہے اور وہ تُلو مونڈل کا رشتہ دار ہے، جو پتھر کا بڑا تاجر اور سابق ترنمول کانگریس رہنما انوبرتا مونڈل کا قریبی ساتھی رہ چکا ہے۔ انوبرتا مونڈل کے قریبی حلقوں کے مطابق تُلو مونڈل رواں ماہ کے آغاز میں رتبرتا بینرجی کی قیادت میں قائم باغی گروپ میں شامل ہو گیا تھا۔

پولیس کے مطابق منار مونڈل کئی پتھر کی کانوں اور کرشنگ یونٹس سے بھی منسلک ہے، جن کی ملکیت تُلو مونڈل سے وابستہ بتائی جاتی ہے۔

چھاپے کے دوران پولیس کے متعدد اعلیٰ افسران بڑی نفری کے ساتھ موقع پر موجود رہے، تاہم حکام نے ابھی تک باضابطہ طور پر یہ نہیں بتایا کہ کارروائی کس بنیاد پر کی گئی اور آیا اس کا تعلق مبینہ غیر قانونی مالی معاملات یا کسی اور جرم سے ہے۔

بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سُویندو ادھیکاری نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی حکومت بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور اس حوالے سے ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر محمد بازار تھانے کی حدود میں مبینہ غیر قانونی ریت مافیا کے ٹھکانے پر بڑی کارروائی کی۔

ادھیکاری نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران غیر قانونی ذرائع سے جمع کی گئی بڑی دولت سامنے آئی، جس میں اب تک 5 کروڑ 50 لاکھ روپے نقد اور 15 کلو سونا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کو لوٹ کر دولت جمع کرنے والے اور سابق حکمران جماعت کے بااثر افراد سے روابط رکھنے والے کسی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے سعد رضوی کے گھر سے کروڑوں کی نقدی اور زیورات برآمد، ایسے لوگ یہ سب گھر میں کیوں رکھتے ہیں؟

ذرائع کے مطابق منار مونڈل ماضی میں ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کا ملازم تھا اور بس ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا، بعد ازاں اس نے پتھر کے کاروبار میں قدم رکھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس نے اتنی بڑی رقم کیسے جمع کی اور اس کی آمدنی کے ذرائع کیا تھے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

2024 کی شاہانہ شادی بھی دوبارہ زیرِ بحث

چھاپے کے بعد تُلو مونڈل کی بیٹی کی 2024 میں ہونے والی شاندار شادی بھی ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بیربھوم کے علاقے سوری میں منعقد ہونے والی اس شادی پر تقریباً 100 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے گئے تھے، جس میں بنگالی اور بالی ووڈ فلمی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔

مہمانوں کی فہرست میں اداکار انکوش ہازرا، درشنا بینک، ارباز خان اور زرین خان سمیت کئی معروف شخصیات شامل تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان میں توانائی کا بڑا بریک تھرو: 20 سال بعد سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کا نیا سفر شروع

امریکی سینیٹ انتخاب میں ووٹ تقسیم کرنے کا مبینہ کھیل، ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کردیں

اسلام آباد میں کرکٹ ٹیموں کی آمدورفت، متبادل راستوں کا اعلان

پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے امن مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 6 نکاتی اصلاحاتی فارمولے اور بجٹ کی منصفانہ فراہمی کا مطالبہ

لڑکیوں کو حقیقی زندگی میں ’ابوبکر‘ چاہیے تو بیٹوں کی تربیت بھی ایسی کرنا ہوگی، سعدیہ امام

ویڈیو

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

10 روپے کا نوٹ بند ہونے سے شادیوں کی رونق اور محنت کشوں کی آمدن متاثر ہونے کا خدشہ

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟