چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کیے جانے والے ہراساں کن مواد، ڈیپ فیک اور سائبر بُلیئنگ کی روک تھام کے لیے نئے قانون کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس پر عوامی رائے 28 اگست تک طلب کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:اے آئی انقلاب کے ثمرات، مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت سے آمدن 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز صارفین کی حقیقی شناخت کی تصدیق کے پابند ہوں گے، جبکہ اے آئی سے تیار یا پھیلائے جانے والے ہراساں کن مواد کی نشاندہی، اسے حذف کرنے، بلاک کرنے اور متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پلیٹ فارمز پر ہوگی۔
مسودے میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو نصاب میں سائبر بُلیئنگ سے آگاہی شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ بچوں اور دیگر حساس طبقات کے لیے خصوصی تحفظ کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
قانون کے مطابق اے آئی کے ذریعے جھوٹی معلومات، کردار کشی، توہین، جنسی نوعیت کے مواد یا منظم آن لائن مہم چلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو ایک کروڑ یوآن (تقریباً 15 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ، سروس معطلی، لائسنس منسوخی یا فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری، حکومت نے واضح روڈ میپ پیش کردیا
چینی حکام کے مطابق یہ قانون ملک میں بڑھتے ہوئے آن لائن ہراسانی اور اے آئی کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔














