امریکا میں روسی سفارت خانے نے امریکی سینیٹ کی جانب سے روس مخالف پابندیوں کے مجوزہ پیکیج کی ابتدائی منظوری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پابندیاں روس کے بجائے خود امریکا کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوں گی، جبکہ وائٹ ہاؤس کو ان کے ممکنہ معاشی اور سیاسی نتائج کا ادراک ہونا چاہیے۔
امریکی پابندیوں پر روس کا سخت ردعمل
امریکا میں روسی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی سینیٹ نے 28 جولائی کو روس مخالف پابندیوں کے اس بل کو ابتدائی ووٹنگ میں منظور کیا جسے مرحوم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور روس کا خفیہ امن منصوبہ: یوکرین سے علاقہ چھوڑنے اور فوج نصف کرنے کا مطالبہ
روسی سفارت خانے نے لنڈسے گراہم کو ‘شدید روس مخالف’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون سازی سے موجودہ امریکی انتظامیہ کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچے گا۔
500 فیصد ٹیرف کی تجویز کا حوالہ
بیان میں کہا گیا کہ رواں سال لنڈسے گراہم اور ان کے حامی کیف اور واشنگٹن کے درمیان سرگرم رہے اور روس کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا مطالبہ کرتے رہے۔
ان تجاویز میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔
وائٹ ہاؤس پہلے ہی قانون سازوں کو روکنے کی کوشش کر چکا تھا
روسی سفارت خانے کے مطابق اس وقت وائٹ ہاؤس نے قانون سازوں کو یہ باور کرایا تھا کہ امریکی صدر کے پاس روس پر اقتصادی اور دیگر دباؤ ڈالنے کے لیے پہلے ہی تمام ضروری اختیارات موجود ہیں، جبکہ مزید قانونی پابندیاں صدر کی سفارتی اور سیاسی گنجائش کو محدود کر دیں گی۔
نئی پابندیاں امریکا کے لیے معاشی بوجھ بن سکتی ہیں
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اور ایسے حالات میں روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:نئی یہودی بستیاں بنانے کے اسرائیلی اعلان پر امریکا اور روس کا ردعمل کیا ہے؟
روسی سفارت خانے کے مطابق اس کے نتیجے میں امریکا میں ایندھن مہنگا ہوگا، مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی حکومت کو سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں رکاوٹ
روسی سفارت خانے نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت سے تعلق رکھنے والے بعض سخت گیر ارکان خود ان کی خارجہ پالیسی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس سے ان کے سیاسی مخالفین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
روس پر پابندیاں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں
بیان میں کہا گیا کہ روس کے خلاف پابندیوں کی پالیسی پہلے ہی عملی طور پر غیر مؤثر ثابت ہو چکی ہے اور موجودہ حالات میں مزید پابندیاں عائد کرنے کا سب سے بڑا نقصان خود امریکا کو ہوگا۔ روسی سفارت خانے نے امید ظاہر کی کہ وائٹ ہاؤس ان ممکنہ خطرات کو پوری طرح سمجھتے ہوئے آئندہ فیصلے کرے گا۔
روسی سفارت خانے نے اپنے بیان میں ’کاؤئنٹنگ امریکاز ایڈورسریز تھرو سنگشنز‘ (سی اے اے ٹی ایس اے) کا بھی حوالہ دیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں کانگریس نے منظور کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں امریکا اور روس کے درمیان اہم مذاکرات شروع
اس قانون کے تحت روس پر عائد پابندیوں میں نرمی یا ان کے خاتمے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دی گئی، جس کے باعث امریکی انتظامیہ کے اختیارات محدود ہو گئے تھے۔ روس کا مؤقف ہے کہ موجودہ مجوزہ پابندیاں بھی اسی نوعیت کی قانونی رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہیں۔













