اسپین کے علاقے سیوٹا میں مہاجرین کا سیلاب، مراکش سے ہزاروں افراد سرحد عبور کر گئے

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں مراکش سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں اچانک اضافے کے بعد مقامی حکام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی اور سماجی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

سیوٹا کی حکومت کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران ایک ہزار 500 سے 2 ہزار کے درمیان مہاجرین مراکش سے سرحد عبور کر کے علاقے میں داخل ہوئے، جبکہ صرف جمعرات کے روز ہی مزید سیکڑوں افراد سیوٹا پہنچ گئے۔ صورتحال کے پیش نظر سیوٹا کے صدر جیسس ویواس نے ہسپانوی حکومت سے فوج تعینات کر کے سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہسپانوی وزارت داخلہ نے قومی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت امیگریشن بحران کو قومی ایمرجنسی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اضافی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بعد ازاں وزارت نے سرحدی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے 60 فوجیوں کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق کئی مہاجرین ربڑ کی کشتیوں اور تیراکی کے ذریعے مراکش سے سیوٹا پہنچے، جبکہ بعض افراد سرحدی باڑ پھلانگ کر ہسپانوی علاقے میں داخل ہوئے۔ داخل ہونے والے متعدد افراد ’ویوا ایسپانا‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔

مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن زکریا زروقی نے کہا کہ موجودہ صورتحال مئی 2021 کے بحران سے مشابہ ہے، جب چند ہی دنوں میں تقریباً 10 ہزار مراکشی اور افریقی نوجوان سیوٹا میں داخل ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق صورتحال اب بھی قابو سے باہر ہے اور مراکش کے سرحدی شہر فنیدیق میں مزید افراد یورپ پہنچنے کی امید میں جمع ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن ہلاک اور لاپتا

سیوٹا اور میلیلا شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے 2 خودمختار علاقے ہیں، جو یورپی یونین اور افریقہ کے درمیان واحد زمینی سرحد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہتر زندگی اور یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد اکثر انہی راستوں سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں اسپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ سیوٹا یا میلیلا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں پکڑے جانے والے مہاجرین کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد غیر قانونی نقل مکانی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہسپانوی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وہ مراکشی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہی گروہ عدالتی فیصلے کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

ہسپانوی وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا جمعہ کو سیوٹا کا دورہ کریں گے، جہاں وہ سرحدی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور آئندہ کے اقدامات پر متعلقہ حکام سے مشاورت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جاپان میں شدید زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان

طالبان کی قید میں ایک سال گزارنے کے بعد افغان صحافی بشیر ہاتف رہا

وزن کم کرنے کے انجیکشن بال جھڑنے کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

پاک ایران سفارت کاری رنگ لے آئی، خلیج عرب میں پھنسا قطری ایل این جی کا بحری جہاز پاکستان کے لیے روانہ

تیل کی قیمتوں میں کمی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود مارکیٹ مستحکم

ویڈیو

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

نورین نیازی ذاتی مفاد کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘