شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں مراکش سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں اچانک اضافے کے بعد مقامی حکام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی اور سماجی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔
سیوٹا کی حکومت کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران ایک ہزار 500 سے 2 ہزار کے درمیان مہاجرین مراکش سے سرحد عبور کر کے علاقے میں داخل ہوئے، جبکہ صرف جمعرات کے روز ہی مزید سیکڑوں افراد سیوٹا پہنچ گئے۔ صورتحال کے پیش نظر سیوٹا کے صدر جیسس ویواس نے ہسپانوی حکومت سے فوج تعینات کر کے سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہسپانوی وزارت داخلہ نے قومی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت امیگریشن بحران کو قومی ایمرجنسی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اضافی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بعد ازاں وزارت نے سرحدی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے 60 فوجیوں کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا۔
🚨Thousands of military aged African male illegal immigrants breached the border between Morocco🇲🇦 & Spain🇪🇸 and then entered Spain illegally swarming the Spanish enclave of Ceuta 🇪🇸 pic.twitter.com/5bpNRp75vw
— Yaya Libram🇿🇦 (@Sello_Libram) July 30, 2026
عینی شاہدین کے مطابق کئی مہاجرین ربڑ کی کشتیوں اور تیراکی کے ذریعے مراکش سے سیوٹا پہنچے، جبکہ بعض افراد سرحدی باڑ پھلانگ کر ہسپانوی علاقے میں داخل ہوئے۔ داخل ہونے والے متعدد افراد ’ویوا ایسپانا‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔
مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن زکریا زروقی نے کہا کہ موجودہ صورتحال مئی 2021 کے بحران سے مشابہ ہے، جب چند ہی دنوں میں تقریباً 10 ہزار مراکشی اور افریقی نوجوان سیوٹا میں داخل ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق صورتحال اب بھی قابو سے باہر ہے اور مراکش کے سرحدی شہر فنیدیق میں مزید افراد یورپ پہنچنے کی امید میں جمع ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن ہلاک اور لاپتا
سیوٹا اور میلیلا شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے 2 خودمختار علاقے ہیں، جو یورپی یونین اور افریقہ کے درمیان واحد زمینی سرحد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہتر زندگی اور یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد اکثر انہی راستوں سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں اسپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ سیوٹا یا میلیلا پہنچنے کی کوشش کے دوران سمندر میں پکڑے جانے والے مہاجرین کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد غیر قانونی نقل مکانی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
🇪🇸 JUST IN: Thousands of migrants breach the Morocco–Spain border into Ceuta, overwhelming security forces as many celebrate their arrival on beaches and streets pic.twitter.com/M1Q1nIG3cg
— Syler Mayne (@thegud_neighbor) July 30, 2026
ہسپانوی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وہ مراکشی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہی گروہ عدالتی فیصلے کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
ہسپانوی وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا جمعہ کو سیوٹا کا دورہ کریں گے، جہاں وہ سرحدی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور آئندہ کے اقدامات پر متعلقہ حکام سے مشاورت کریں گے۔













