اوپن اے آئی نے ہگنگ فیس سائبر حملے کی مزید تفصیلات جاری کردیں

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اوپن اے آئی نے ہگنگ فیس کے سسٹمز تک اس کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی غیر مجاز رسائی سے متعلق مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے کے دوران عوامی طور پر دستیاب کریڈینشلز استعمال کرتے ہوئے 4 مختلف سروسز کے 4 اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی گئی۔

مزید پڑھیں:اوپن اے آئی جلد اے آئی ڈیوائسز متعارف کرائے گا، چیٹ جی پی ٹی کے لیے نئے آلات کی تیاری

کمپنی کے مطابق یہ کارروائی ساڑھے 4 دن تک جاری رہی، جس دوران قریباً 17 ہزار 600 سرگرمیاں بغیر کسی انسانی مداخلت کے انجام دی گئیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ایک اکاؤنٹ حملے کے لیے، دوسرا ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوا، جبکہ 2 اکاؤنٹس تک صرف معلومات دیکھنے کی حد تک رسائی حاصل کی گئی۔

مزید پڑھیں:اوپن اے آئی کے بے قابو اے آئی ایجنٹ نے دوسری ٹیک کمپنی کے اکاؤنٹ تک بھی رسائی حاصل کرلی

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے کہا کہ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کو اس وقت تک محدود رکھنا پڑے جب تک معاشرہ ان نئی صلاحیتوں کے مطابق اپنے حفاظتی نظام مضبوط نہ بنا لے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کی مدد کے الزام میں امریکا کی بھارتی جوڑے اور ترک کمپنی پر پابندیاں

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا