مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایک نہیں بلکہ مختلف اقسام کی اے آئی ڈیوائسز متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے تاہم ان مصنوعات کی تفصیلات اور حتمی لانچ کی تاریخ ابھی سامنے نہیں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے صحافی جوانا اسٹرن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کمپنی صرف ایک ڈیوائس پر کام نہیں کر رہی بلکہ مختلف ڈیوائسز کے ایک پورے خاندان کی تیاری جاری ہے۔
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا اوپن اے آئی ایک اے آئی اسمارٹ اسپیکر بھی متعارف کرا رہی ہے تو انہوں نے اس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید البتہ کہا کہ کمپنی کی توجہ صرف نئی مصنوعات متعارف کرانے پر نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر ہے جو صارفین کے لیے حقیقی معنوں میں مفید ثابت ہو۔
لانچ کے ممکنہ وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر بروک مین نے صرف اتنا کہا کہ آپ انہیں جلد دیکھنے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں کمپیوٹر سے کی بورڈ پر ٹائپ کرنے کے بجائے براہ راست گفتگو کرنا عام بات بن جائے گی اور اوپن اے آئی اپنی نئی ہارڈویئر حکمت عملی اسی تصور کو سامنے رکھ کر تیار کر رہی ہے۔
مزید پڑھیے: سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف
بروک مین نے بتایا کہ بعض دفاتر میں ملازمین ایسے خصوصی ساؤنڈ پروف ماسک استعمال کر رہے ہیں جن کی مدد سے وہ دوسروں کو متاثر کیے بغیر اپنے کمپیوٹر سے بات کر سکتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ ماسک دیکھنے میں کچھ عجیب محسوس ہوتے ہیں تاہم ان کے خیال میں مستقبل میں انسان اور کمپیوٹر کے درمیان گفتگو مزید عام ہو جائے گی۔
اوپن اے آئی کے صدر نے صارفین کی رازداری سے متعلق خدشات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جو قابل تصدیق اور آڈٹ کے قابل ضمانت فراہم کرے گی کہ صارفین کی نجی گفتگو صرف مصنوعی ذہانت ہی پراسیس کرے گی نہ کہ کمپنی کا کوئی ملازم۔
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی کے عارضی چیٹ جیسے فیچرز کے حوالے سے صارفین کے پرائیویسی سے متعلق خدشات کو کم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
دوسری جانب اوپن اے آئی کو اس وقت قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ کمپنی نے ایپل کے سابق چیف ڈیزائنر جونی آئیو کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جس کے بعد تجارتی رازوں سے متعلق ایک مقدمہ سامنے آیا ہے۔ تاہم بروک مین نے اس معاملے پر تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اوپن اے آئی اپنی ٹیکنالوجی اور جدت پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اسے کسی دوسری کمپنی کے تجارتی رازوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔














