مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں رسد سے متعلق خدشات میں کمی اور تیل کی ترسیل میں بہتری کو قرار دیا جا رہا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 1.2 فیصد کمی کے بعد 88 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی تقریباً 1.8 فیصد گر کر 82 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
🚨𝗕𝗥𝗘𝗡𝗧 𝗖𝗥𝗨𝗗𝗘 𝗙𝗨𝗧𝗨𝗥𝗘𝗦 𝗗𝗥𝗢𝗣 𝟭.𝟴𝟴% 𝗧𝗢 $𝟴𝟵.𝟬𝟯!
The benchmark Brent contract closed at $89.03 per barrel, slipping $1.71 from the previous session.
The decline marks a near‑2% pullback amid broader energy market volatility.
Investors keep an eye on… pic.twitter.com/usC85wxzsM
— Rahul K (@iamrahulinc) July 30, 2026
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں بہتری کے بعد عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کو ترجیح دی اور قیمتوں پر دباؤ آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم اہم بحری راستوں سے تیل کی ترسیل جاری رہنے سے عالمی مارکیٹ کو وقتی استحکام ملا ہے۔ ان کے مطابق شپنگ اخراجات اب بھی معمول سے زیادہ ہیں، لیکن سپلائی چین میں بہتری نے قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی عالمی تیل مارکیٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے یا تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔














