ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران سے منسلک ایک وسیع غیر قانونی آن لائن جوئے کے نیٹ ورک اور دبئی میں قائم ایک کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم نے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچتے ہوئے تقریباً 4 ارب ڈالر کی رقوم بیرون ملک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کا مرکز دبئی میں قائم ایک غیر لائسنس یافتہ کرپٹو ایکسچینج تھا، جو ہزاروں فارسی زبان کی آن لائن جوئے کی ویب سائٹس کو مالیاتی خدمات فراہم کرتا تھا۔ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے روابط ایران کے مرکزی بینک، پاسدارانِ انقلاب اور دیگر پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں سے بھی تھے۔
Illicit Iranian gambling network helped pull off a $4 billion sanctions dodge #Iran https://t.co/G5zsT7cDtg
— Shadi Alkasim (@Shadi_Alkasim) July 31, 2026
تحقیقات کے مطابق ایران میں جوا غیر قانونی ہے، تاہم برسوں کے دوران اس غیر قانونی شعبے کو منظم مالیاتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی مدد سے اربوں ڈالر مختلف ممالک تک منتقل کیے گئے، جس سے پابندیوں سے بچنے اور مالی لین دین کو خفیہ رکھنے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کی تشہیر میں ایرانی سوشل میڈیا کی معروف شخصیات بھی شامل رہیں، جنہوں نے آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز کو مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔ تاہم ان افراد نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، منی لانڈرنگ یا ریاستی سرپرستی میں کام کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
تحقیقات کے مطابق مذکورہ کرپٹو پلیٹ فارم سے بڑی مقدار میں ڈیجیٹل اثاثے مختلف عالمی کرپٹو ایکسچینجز تک منتقل کیے گئے۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ مشتبہ لین دین کی نشاندہی ہونے پر متعدد اکاؤنٹس منجمد کیے گئے اور معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی شیئر کی گئیں۔

دوسری جانب دبئی کے مالیاتی ریگولیٹری ادارے نے اس کرپٹو پلیٹ فارم کے خلاف بغیر لائسنس کام کرنے، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر ضابطہ جاتی بے ضابطگیوں پر کارروائی کرتے ہوئے اس کی سرگرمیاں بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک جدید بلاک چین ٹیکنالوجی، کرپٹو کرنسی اور آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے پابندیوں سے بچنے کے لیے قائم کیے گئے اب تک کے بڑے مالیاتی نظاموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس انکشاف نے عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے استعمال، مالیاتی نگرانی اور پابندیوں پر عمل درآمد کے نظام سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔














