سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے ہیں؟ اے آئی اور ڈیپ فیک کے نئے خطرات جان لیں

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے ترقی نے جہاں کئی شعبوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں ایک نیا اور تشویشناک رجحان بھی سامنے آیا ہے جس میں سوشل میڈیا پر موجود عام تصاویر کو استعمال کرکے کسی بھی شخص کی جعلی فحش یا نامناسب تصاویر (ڈیپ فیک) تیار کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں

ماہرین کے مطابق اب جدید اے آئی ٹولز کی مدد سے صرف چند تصاویر حاصل کرکے ایسے جعلی عکس اور ویڈیوز بنانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے جس کے باعث خواتین، نوجوانوں اور عام سوشل میڈیا صارفین کی پرائیویسی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

برطانیہ میں سامنے آنے والے ایک حالیہ کیس نے اس خطرے کی شدت کو مزید اجاگر کیا جہاں ایک شخص نے ایک خاتون کی نجی شادی کی تصاویر استعمال کرکے ان کی جعلی فحش تصاویر تیار کیں اور انہیں انٹرنیٹ پر شیئر کردیا۔

بی بی سی کے مطابق پولیس کی تحقیقات کے دوران ایک ایسے عالمی آن لائن نیٹ ورک کا بھی سراغ ملا جہاں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی خرید و فروخت اور تشہیر کی جا رہی تھی جس پر بعد ازاں امریکی اور برطانوی اداروں نے مشترکہ کارروائی کی۔

تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق 11 لاکھ سے زائد تصاویر برآمد ہوئیں جبکہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں درجنوں متاثرین کی شناخت بھی کی گئی۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے بنائی گئی جعلی تصاویر اتنی حقیقت سے قریب ہوتی ہیں کہ عام افراد کے لیے ان کی اصلیت اور جعلسازی میں فرق کرنا مشکل ہوسکتا ہے، جس سے نہ صرف کردار کشی بلکہ بلیک میلنگ، ہراسانی اور مالی فراڈ جیسے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟

ماہرین کا مشورہ ہے کہ سوشل میڈیا صارفین اپنی تصاویر کی پرائیویسی سیٹنگز مضبوط رکھیں، غیر ضروری طور پر ذاتی تصاویر عوامی نہ کریں اور اگر ان کی تصاویر کا غلط استعمال ہو تو فوری طور پر متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو بھی اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے خلاف مؤثر قوانین، تیز رفتار تحقیقات اور سخت سزاؤں کا نظام متعارف کرانا ہوگا تاکہ اس بڑھتے ہوئے سائبر خطرے پر قابو پایا جا سکے۔

ڈیپ فیک کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

ڈیپ فیک مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کسی شخص کی اصل تصاویر، ویڈیوز یا آواز کو استعمال کرتے ہوئے جعلی مگر حقیقت سے بہت قریب مواد تیار کیا جاتا ہے۔ جدید اے آئی سسٹمز چند تصاویر یا مختصر ویڈیوز کی مدد سے کسی بھی شخص کا چہرہ دوسری تصویر یا ویڈیو پر اس انداز میں لگا سکتے ہیں کہ پہلی نظر میں اسے جعلی قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کے فلم سازی، تعلیم اور دیگر تخلیقی شعبوں میں مثبت استعمال بھی موجود ہیں لیکن حالیہ برسوں میں اس کا غلط استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔

تصاویر کا غلط استعمال کس طرح کیا جاتا ہے؟

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بعض افراد سوشل میڈیا، ویب سائٹس یا دیگر آن لائن ذرائع سے لوگوں کی تصاویر حاصل کرتے ہیں اور پھر ٹولز کی مدد سے ان تصاویر کو تبدیل کرکے جعلی فحش تصاویر یا ویڈیوز، گمراہ کن مواد یا کسی دوسرے شخص سے منسوب جعلی مناظر تیار کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایسی تصاویر بلیک میلنگ، ہراسانی، کردار کشی، انتقام، جعلی خبروں کے پھیلاؤ یا مالی فراڈ کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ کئی جدید اے آئی پلیٹ فارمز پر صرف چند تصاویر اپ لوڈ کرنے سے انتہائی حقیقت سے قریب نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جس کی وجہ سے اس خطرے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ہر تصویر کا غلط استعمال ممکن نہیں لیکن احتیاط ضروری ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر تصویر لازماً ڈیپ فیک کا شکار بن جائے گی تاہم جتنی زیادہ واضح، مختلف زاویوں سے لی گئی اور عوامی طور پر دستیاب تصاویر ہوں گی اتنا ہی کسی اے آئی نظام کے لیے حقیقت سے قریب جعلی مواد تیار کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین اپنی ذاتی تصاویر صرف ضرورت کے مطابق شیئر کریں، سوشل میڈیا کی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں اور اگر ان کی تصاویر کے غلط استعمال کا شبہ ہو تو فوری طور پر متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں اور سائبر کرائم سے نمٹنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔

دنیا بھر میں قوانین بھی سخت کیے جا رہے ہیں

ڈیپ فیک کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے پیش نظر دنیا کے مختلف ممالک اس حوالے سے قوانین کو مزید سخت بنا رہے ہیں۔ کئی ممالک میں کسی شخص کی رضامندی کے بغیر اس کی جعلی فحش تصاویر یا ویڈیوز تیار کرنا یا انہیں پھیلانا قابل سزا جرم قرار دیا جا چکا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ایسے مواد کی نشاندہی اور فوری حذف کرنے کے لیے نئے اے آئی نظام متعارف کرا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈیپ فیک کی دنیا: لوگ تشکیک کا شکار،شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کیا؟

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے فوائد سے محفوظ انداز میں فائدہ اٹھانے کے لیے عوامی آگاہی، مؤثر قوانین اور ذمہ دارانہ آن لائن رویہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اپنی تصاویر کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر موجود تصاویر کا غلط استعمال مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں تاہم چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیں اور کوشش کریں کہ تصاویر اور ذاتی معلومات صرف دوستوں یا قابل اعتماد افراد تک محدود رہیں۔ اپنی پروفائل یا فوٹو البمز کو غیر ضروری طور پر عوامی (پبلک) رکھنے سے گریز کریں کیونکہ عوامی تصاویر تک کسی بھی شخص کی رسائی آسان ہو جاتی ہے۔

تصاویر شیئر کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی یا خاندانی تصاویر شیئر کرتے وقت خاص طور پر بچوں کی تصاویر کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ ایسی تصاویر کے ساتھ اسکول، گھر، روزمرہ معمولات یا دیگر حساس معلومات شیئر نہ کی جائیں۔ اسی طرح اگر ممکن ہو تو انتہائی واضح (ہائی ریزولوشن) تصاویر عوامی طور پر پوسٹ کرنے سے بھی گریز کیا جائے کیونکہ جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز واضح تصاویر سے حقیقت سے قریب جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر تصاویر کا غلط استعمال ہو جائے تو کیا کریں؟

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو شبہ ہو کہ اس کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کرکے غلط مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو فوری طور پر متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شکایت درج کرائی جائے تمام شواہد جیسے اسکرین شاٹس اور ویب لنکس محفوظ کیے جائیں اور ضرورت پڑنے پر سائبر کرائم سے نمٹنے والے متعلقہ سرکاری ادارے سے بھی رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔

کیا صرف پرائیویسی سیٹنگز کافی ہیں؟

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پرائیویسی سیٹنگز خطرے کو کم ضرور کر سکتی ہیں لیکن مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتیں۔ اگر کوئی تصویر پہلے ہی عوامی طور پر انٹرنیٹ پر موجود ہو یا کسی دوسرے شخص نے اسے دوبارہ شیئر کر دیا ہو تو اس کے غلط استعمال کا امکان برقرار رہتا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت احتیاط، محدود شیئرنگ اور بروقت رپورٹنگ کو بہترین حفاظتی حکمت عملی قرار دیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف جدہ پہنچ گئے، کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پرتپاک استقبال

سولر صارفین کے لیے نیپرا کا بڑا ریلیف، لائسنس کی شرط ختم

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا

اوور 60 کرکٹ ورلڈ کپ: پاکستان ٹیم کینیڈا روانہ، 9 اگست کو ویلز کے خلاف مہم کا آغاز

بھارت میں طلبہ احتجاج پھیل گیا، جھاڑکھنڈ میں بھی ہزاروں نوجوان سڑکوں پر آگئے

ویڈیو

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ