بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہر والدین کے لیے اپنے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سب سے قیمتی یادوں میں شمار ہوتی ہیں۔ بچے کا پہلا قدم، پہلی سالگرہ، اسکول کا پہلا دن یا روزمرہ زندگی کے خوشگوار لمحات یہ سب سوشل میڈیا پر خاندان اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا آج کی زندگی کا ایک عام حصہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر و ویڈیو کا کاروبار، ’ایکس‘ کیسے استعمال ہو رہا ہے؟

تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں بچوں کی تصاویر آن لائن شیئر کرنا اب صرف ایک ذاتی یا سماجی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ بچوں کی سلامتی، رازداری اور مستقبل سے جڑا ایک اہم مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت کے ایسے جدید ٹولز سامنے آئے ہیں جو چند تصاویر کی مدد سے جعلی، گمراہ کن اور بعض اوقات انتہائی غیر اخلاقی مواد بھی تخلیق کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کی جانب سے نیک نیتی سے شیئر کی جانے والی تصاویر بھی غلط ہاتھوں میں جا کر بچوں کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کے تحفظ سے متعلق ادارے والدین کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر شیئر کرتے وقت پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط برتیں۔

ماہرین کے مطابق مقصد والدین کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے جڑے حقیقی خطرات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی تصاویر اور ذاتی معلومات کے حوالے سے باخبر اور ذمہ دارانہ فیصلے کر سکیں۔ اسی تناظر میں برطانیہ کے نیشنل کرائم ایجنسی اور انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن نے والدین کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے بچوں کی تصاویر آن لائن شیئر کرنے سے متعلق اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیے: گرومنگ گینگز تحقیقات: جب لڑکیاں غائب ہو رہی تھیں تو سوال کیوں نہیں اٹھائے گئے؟

نیشنل کرائم ایجنسی نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تصاویر عوامی طور پر سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے میں احتیاط برتیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بچوں کی تصاویر کو غیر قانونی اور جنسی استحصال پر مبنی مواد میں تبدیل کیے جانے کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی نے آئی ڈبلیو ایف کے ساتھ مل کر جاری کی گئی ایک وارننگ میں کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود بچوں کی تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد (چائلڈ سیکسوئل ابیوز میٹیریل) تیار کرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اداروں کے مطابق سال 2025 کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق 8 ہزار سے زائد حقیقت سے قریب تر تصاویر اور ویڈیوز کی نشاندہی کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے سینئر منیجر ٹم رائٹ نے کہا کہ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں تاہم اس خطرے کی روک تھام اب بھی انتہائی اہم ہے۔

مزید پڑھیں: اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کی ڈیپ فیک تصویر وائرل، سخت وارننگ جاری

اسی مقصد کے تحت نیشنل کرائم ایجنسی اور انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن نے والدین کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔

رہنما اصولوں میں والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیں یا تصاویر شیئر کرنے کے لیے صرف قریبی دوستوں اور خاندان کے افراد پر مشتمل نجی گروپس کا استعمال کریں۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس کے بے شمار فوائد ہیں لیکن اس کا غلط استعمال بھی ممکن ہے خصوصاً ایسے افراد کی جانب سے جو بچوں کی برہنہ، نیم برہنہ یا جنسی نوعیت کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے، تبدیل کرنے یا پھیلانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے مطابق سنہ 2024 میں اس کے ماہرین نے مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق صرف 13 ویڈیوز کی نشاندہی کی تھی تاہم 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 3,440 تک پہنچ گئی۔

برطانیہ میں ایسے تمام مواد کو بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیپ فیک کی دنیا: لوگ تشکیک کا شکار،شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کیا؟

برطانوی حکومت بھی بچوں، خصوصاً کم عمر لڑکیوں، کو مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں ایسے موبائل ایپس پر پابندی شامل ہے جو تصاویر میں ردوبدل کرکے لوگوں کو برہنہ ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ قوانین میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیاں اپنے نظاموں کو غیر قانونی مواد کی تیاری کے لیے استعمال ہونے سے روک سکیں۔

والدین کے لیے اہم ہدایات

نیشنل کرائم ایجنسی اور انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے مطابق ان ہدایات کا مقصد والدین اور سرپرستوں کو بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خطرات اور اس میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار سے آگاہ کرنا ہے۔

رہنما اصولوں میں کہا گیا ہے کہ والدین یا سرپرست کے طور پر ان خطرات کے بارے میں سن کر تشویش محسوس ہونا فطری ہے لیکن وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ایسے کئی اقدامات موجود ہیں جن میں سے بعض پر شاید وہ پہلے ہی عمل کر رہے ہوں، جو بچوں کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اداروں کا والدین کو 3 بنیادی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ

پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیں: سوشل میڈیا ایپس میں موجود پرائیویسی کنٹرولز استعمال کرتے ہوئے پوسٹس کی نمائش محدود کریں یا اکاؤنٹ کو نجی (پرائیویٹ) بنائیں۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کریں: پہلے سے شیئر کی گئی تصاویر اور مواد کا جائزہ لیں تاکہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنے والی معلومات، جیسے چہرہ، اسکول یونیفارم یا دیگر تفصیلات نمایاں نہ ہوں۔ ضرورت پڑنے پر ایسی تصاویر حذف کر دیں۔

تصاویر کے استعمال کی اجازت کا دوبارہ جائزہ لیں: دوستوں، رشتہ داروں، اسکولوں، کلبوں اور دیگر اداروں سے معلوم کریں کہ بچوں کی تصاویر کس مقصد کے لیے لی جا رہی ہیں یا استعمال ہو رہی ہیں اور پہلے سے دی گئی اجازتوں کا بھی دوبارہ جائزہ لیں۔

مزید پڑھیں: ڈیپ فیک ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت نے نئی مشکل کھڑی کردی

رہنما اصولوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ والدین بچوں کو اس گفتگو میں شامل کریں کہ ان کی تصاویر کب اور کہاں لی جائیں یا شیئر کی جائیں تاکہ بچے خود بھی ضرورت پڑنے پر ’نہیں‘ کہنے میں زیادہ پراعتماد محسوس کریں۔

’شیرینٹنگ‘ کے بڑھتے ہوئے خدشات

یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب بچوں کی حفاظت سے متعلق ماہرین اور ادارے کئی برسوں سے والدین کی جانب سے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے رجحان، جسے ’شیرینٹنگ‘ کہا جاتا ہے کے خطرات سے خبردار کر رہے ہیں۔

یہ اصطلاح سنہ 2016 میں کولنز انگلش ڈکشنری میں شامل کی گئی تھی اور اس سے مراد والدین کی جانب سے اپنے بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسا کرنے سے بچوں کو مستقبل میں شناخت کی چوری، دھوکہ دہی اور نجی زندگی کے متاثر ہونے جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم اب مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کی دستیابی اور ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے تصاویر میں اس طرح ردوبدل کیا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کے کپڑے ہٹائے ہوئے دکھائی دیں۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی سربراہ کیری اسمتھ نے کہا کہ ان کا مقصد والدین کو اپنے بچوں کی تصاویر شیئر کرنے سے روکنا نہیں بلکہ انہیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے باخبر فیصلہ کر سکیں۔

مزید پڑھیے: انٹرنیٹ سے اپنی نازیبا تصاویر و دیگر مواد ہٹوانے کے لیے ایشوریا رائے کا عدالت عالیہ سے رجوع

انہوں نے کہا کہ یہ محض فرضی خدشات نہیں بلکہ حقیقی خطرات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp